تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہای نے اہم اجلاس میں ملکی صورتحال اور امریکا کی جانب سے بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر غور کیا۔
اجلاس میں حکومت کی تینوں شاخوں کے درمیان بہتر اور مؤثر رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ معاشی مشکلات اور امریکی پابندیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا نے ایران کے خلاف مزید سخت معاشی پابندیوں اور دباؤ کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئی پابندیوں کا مقصد ایرانی معیشت پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا ہے، جبکہ تہران نے امریکی اقدامات کو معاشی جنگ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔
ایرانی قیادت کے درمیان حالیہ دنوں میں ملک کو درپیش معاشی مشکلات، جنگی صورتحال اور امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں حکمت عملی پر مشاورت میں اضافہ ہوا ہے۔