نیویارک : افغانستان میں طالبان کی حکومت کے تحت غربت، بھوک اور افلاس نے اب تک کی سب سے سنگین صورتِ حال اختیار کر لی ہے، جہاں عام شہریوں کے لیے زندگی گزارنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے افغان عوام کی حالت زار پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے مطابق طالبان کی ناقص حکمرانی اور دہشت گردی کے فروغ نے افغانستان کو شدید انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کی تازہ رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی قلت، بھوک اور افلاس کے شکار ہیں، اور انہیں موسمِ سرما گزارنے کے لیے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد 40 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے، جو گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
یونیسیف اور دیگر عالمی اداروں نے بھی افغانستان میں شدید انسانی بحران کی نشاندہی کی ہے۔ یونیسیف کے مطابق، دو سال سے کم عمر کے تقریباً 90 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جو ایک انتہائی تشویشناک صورتِ حال ہے۔ افغانستان کے شدید معاشی بحران نے عوام کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں اور کمزور معیشت نے لوگوں کے آمدنی کے ذرائع تقریباً ختم کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں خاندان اپنے بنیادی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، طالبان حکمران بدعنوانی اور غیر قانونی ذرائع سے حاصل شدہ رقوم پر عیش و عشرت کی زندگی گزارنے میں مصروف ہیں، جبکہ عام افغان شہری خطِ غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کی نااہلی اور بے حسی کے باعث افغان عوام بھوک، افلاس اور بدحالی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔