ایک طرف مذاکرات کے حوصلہ افزا اشارے، دوسری طرف دفاع کا بھرپور حق محفوظ؛ایران کا دوٹوک موقف

02:57 PM, 23 Feb, 2026

تہران : ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور سفارتی رابطوں کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم خطے میں امن و استحکام ہماری اولین ترجیح ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری اپنے پیغام میں صدر مسعود پزشکیان نے انکشاف کیا کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے مثبت اشارے ملے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران امریکی اقدامات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور دفاع کے لیے تمام ضروری تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان 26 فروری کو عمان میں اہم مذاکرات ہوں گے۔ ان مذاکرات کے دوران جنیوا میں امریکی ایلچی اسٹیو وائٹکوف کے ساتھ بھی ملاقات کی توقع کی جا رہی ہے، جسے بحران کے حل کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو تہران اپنے دفاع کا بھرپور حق رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
موجودہ بحرانی صورتحال کے پیش نظر سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اہم تزویراتی فیصلے کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق    سپریم لیڈر نے نیشنل سکیورٹی کونسل کے ذریعے علی لاریجانی کو انتہائی اہم اور وسیع اختیارات سونپ دیے ہیں۔


    ماہرین اسے خامنہ ای کے "جانشینی پلان" اور لاریجانی پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد مشکل گھڑی میں ریاستی امور کو مستحکم رکھنا ہے۔

مزیدخبریں