کابل : افغانستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں، بالخصوص چینی شہریوں پر ہونے والے پے در پے حملوں نے افغان طالبان حکومت کے سکیورٹی دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، طالبان رجیم غیر ملکی ورکرز اور سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔سفارتی اور سکیورٹی ذرائع کی فراہم کردہ رپورٹس کے مطابق، ستمبر 2024 سے لے کر 2026 کے آغاز تک افغانستان کے مختلف علاقوں میں چینی شہریوں پر 7 بڑے حملے کیے گئے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں 9 چینی شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 10 سے زائد چینی باشندے شدید زخمی ہوئے۔
واضح رہے کہ افغانستان میں جاری چینی منصوبوں کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری افغان طالبان نے بھاری منافع اور معاشی فوائد کے عوض قبول کر رکھی ہے۔ تاہم، حالیہ حملوں کے تسلسل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کابل انتظامیہ کے سکیورٹی انتظامات محض کاغذوں تک محدود ہیں اور زمین پر شدت پسند گروہ چینی سرمایہ کاروں کو آسانی سے نشانہ بنا رہے ہیں۔
شدت پسند گروہوں کی جانب سے چینی اہداف کو نشانہ بنائے جانے کے باعث اربوں ڈالر کے سرمایہ کاری منصوبے شدید خطرات سے دوچار ہو چکے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر سکیورٹی کی یہی صورتحال برقرار رہی تو چین نہ صرف اپنی سرمایہ کاری روک سکتا ہے بلکہ اپنے شہریوں کو افغانستان سے نکالنے پر بھی مجبور ہو سکتا ہے، جس سے افغان معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔
عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکامی طالبان حکومت کی عالمی سطح پر تنہائی کو مزید گہرا کر دے گی، کیونکہ کوئی بھی ملک ایسے ماحول میں سرمایہ کاری کا خطرہ مول نہیں لے گا جہاں شہریوں کی زندگی کی کوئی ضمانت نہ ہو۔
افغانستان میں چینی سرمایہ کار نشانے پر؛ طالبان کے سکیورٹی دعوے کھوکھلے ثابت، منصوبے خطرات سے دوچار
03:37 PM, 23 Feb, 2026