ایل مینچو کے خاتمے کے بعد میکسیکو میں تشدد کی نئی لہر؛ کیا کارٹیلز کے درمیان اقتدار کی جنگ مزید شدت اختیار کرے گی؟

04:07 PM, 23 Feb, 2026

میکسیکو:میکسیکو کی سکیورٹی فورسز نے ایک انتہائی خفیہ اور بڑے فوجی آپریشن کے دوران دنیا کے مطلوب ترین منشیات فروش اور 'جالسکو نیو جنریشن کارٹیل' (CJNG) کے بانی سربراہ نیمیسیو اوسیگوئرا المعروف 'ایل مینچو' کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس ہلاکت کے بعد میکسیکو کے مختلف حصوں میں شدید پرتشدد لہر دوڑ گئی ہے جس نے پوری ریاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
میکسیکو کی وزارتِ دفاع کے جاری کردہ بیان کے مطابق  ریاست جالسکو میں سکیورٹی فورسز اور کارٹیل کے مسلح ارکان کے درمیان آمنا سامنا ہوا، جہاں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ 'ایل مینچو' فائرنگ کے تبادلے میں شدید زخمی ہوا، جسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے میکسیکو سٹی منتقل کیا جا رہا تھا مگر وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔
 ایل مینچو کا شمار دنیا کے طاقتور ترین ڈرگ لارڈز میں ہوتا تھا، جس نے 'ایل چیپو' کی گرفتاری کے بعد منشیات کی عالمی منڈی پر اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیا تھا۔اپنے لیڈر کی ہلاکت کے ردِعمل میں کارٹیل کے مسلح جنگجوؤں نے کئی ریاستوں کو میدانِ جنگ بنا دیا۔درجنوں گاڑیوں کو آگ لگا کر شاہراہوں پر ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا تاکہ فوج کی نقل و حرکت روکی جا سکے۔
 ریاست جالسکو کے گورنر پابلو لیموس ناورو نے سکیورٹی کی ابتر صورتحال کے پیشِ نظر شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ کشیدگی کے باعث ایئر کینیڈا نے میکسیکو کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں، جبکہ امریکہ نے اپنے شہریوں کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
یہ آپریشن میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین باؤم کی حکومت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام نے ایل مینچو کے خاتمے کو خطے میں امن و امان کے لیے ایک "فیصلہ کن کامیابی" قرار دیا ہے، تاہم ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے کارٹیلز کے درمیان اقتدار کی نئی اور زیادہ خونی جنگ چھڑ سکتی ہے۔

مزیدخبریں