لندن : دنیا بھر میں ’پرنس آف ڈارکنس‘ کے نام سے پہچانے جانے والے راک لیجنڈ اوزی اوسبورن 76 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ اوزی نے اپنی منفرد آواز، انوکھے انداز اور طویل موسیقی کیریئر کے ذریعے ہیوی میٹل موسیقی کو ایک نیا رنگ دیا۔
ابتدائی دنوں میں ان کا بینڈ بلیک سبتھ سخت تنقید کی زد میں آیا اور کچھ ناقدین نے ان کی موسیقی کو شیطانی قرار دیا، لیکن نوجوان نسل نے جلد ہی اوزی کے منفرد انداز اور شاعری کو اپنایا۔ موسیقی کے ماہرین ان کی آواز کو بے مثال طاقت اور شناخت کا حامل قرار دیتے ہیں، جبکہ ان کے بلیوز-شاؤٹر سٹائل کو ہیوی میٹل کی نئی جہت سمجھا جاتا ہے۔
اوزی کی ذاتی زندگی بھی اکثر خبروں میں رہی، منشیات اور شراب نوشی کے مسائل کے باوجود ان کی اہلیہ اور منیجر شیری اوسبرن نے 1980 کی دہائی میں ان کے سولو کیریئر کو نئی جان دی۔ ان کا پہلا سولو البم 'Blizzard of Ozz' بڑا ہٹ ثابت ہوا۔
2002 میں ایم ٹی وی کا شو ’دی اوسبورنس‘ ان کی زندگی کو عام لوگوں کے قریب لے آیا، جہاں انہوں نے ایک خاندانی اور منفرد شخصیت کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔ انہوں نے بلیک سبتھ کے ساتھ دوبارہ کام کیا اور ان کا البم ’13‘ امریکہ میں ٹاپ پر رہا۔
اوزی نے زندگی بھر کئی متنازع واقعات میں حصہ لیا، جن میں مشہور چمگادڑ کے سر کاٹنے کا واقعہ شامل ہے، تاہم بعد میں انہوں نے ان واقعات پر معافی بھی طلب کی۔ اپنے آخری انٹرویو میں اوزی نے کہا تھا کہ ’میں ایک سادہ انسان ہوں، لیکن میں نے بہت کچھ کیا، کم از کم لوگ مجھے یاد رکھیں گے۔‘
اوزی اوسبورن اپنے پیچھے اہلیہ شیری اوسبرن، چھ بچوں اور ایک ناقابلِ فراموش موسیقی ورثہ چھوڑ گئے۔ ان کی یاد موسیقی کے دلدادگان کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔