غزہ میں شدید قحط اور انسانی بحران، 100 سے زائد امدادی تنظیموں نے فوری کارروائی کا مطالبہ کر دیا

03:48 PM, 23 Jul, 2025

غزہ : فلسطینی علاقے غزہ میں جاری اسرائیلی ناکہ بندی اور عسکری کارروائیوں کی وجہ سے انسانی صورتحال نہایت تشویشناک ہو گئی ہے۔ 100 سے زائد امدادی تنظیموں بشمول ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز، سیو دی چلڈرن اور آکسفیم نے مشترکہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بھوک اور قحط ایک وبا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ نہ صرف عام لوگ بھوک سے تنگ ہیں بلکہ امدادی کارکن بھی شدید خطرات میں ہیں اور خوراک کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں جہاں انہیں فائرنگ کا سامنا ہے۔ تنظیموں نے فوری جنگ بندی، تمام زمینی گزرگاہوں کو کھولنے اور اقوام متحدہ کی زیر قیادت امدادی سامان کی بلا روک ٹوک فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال کے سربراہ نے بتایا کہ صرف تین دنوں میں غذائی قلت کی وجہ سے 21 بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق مئی کے بعد سے اب تک 1,000 سے زائد فلسطینی امدادی کاموں کے دوران اسرائیلی افواج کی کارروائیوں میں مارے جا چکے ہیں۔

انسانی ہمدردی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ امدادی سامان کے ہزاروں ٹن غزہ اور سرحدوں پر موجود ہیں، مگر ان تک رسائی پر پابندی ہے۔ فلسطینی اس بحران میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں امداد اور جنگ بندی کی امیدیں ہیں لیکن روز بروز صورت حال خراب ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صرف جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی اذیت بھی ہے، اور زندہ رہنے کی امید کمزور ہو رہی ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق غزہ کے ایک ہسپتال میں چھ ہفتے کے بچے یوسف کی لاش پڑی تھی، جس کی موت بھوک کی وجہ سے ہوئی۔ بچے کے چچا نے بتایا کہ انہیں بیبی فارمولہ دودھ نہیں مل رہا اور جو بھی دستیاب ہے اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔

اسرائیلی حملوں کے آغاز سے اب تک تقریباً 60,000 فلسطینی فضائی حملوں، گولہ باری اور فائرنگ میں جان سے جا چکے ہیں، جس سے غزہ کا انسانی المیہ اور بڑھ گیا ہے۔

مزیدخبریں