وفاقی بجٹ : وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال، عوامی ریلیف، زرعی ترقی اور اصلاحات پر زور

02:42 PM, 23 Jun, 2025

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے موجودہ بجٹ میں عوامی ریلیف، معاشی استحکام، زرعی ترقی، برآمدات میں اضافے اور اصلاحات پر خاص توجہ دی ہے۔ انہوں نے بجٹ کی تیاری میں تمام اداروں کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے اخراجات کو کنٹرول کیا ہے اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا ہے۔ بجٹ میں 32 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ نئے ٹیکسز سے ملکی مجموعی پیداوار (GDP) پر اثر کو 0.25 فیصد تک محدود رکھا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 5 کروڑ روپے تک قیمت والے رہائشی مکانات، ایک کروڑ روپے کے پلاٹ اور 70 لاکھ روپے تک قیمت کی گاڑیوں پر نئے ٹیکس قوانین کا اطلاق نہیں ہوگا۔ یکم جولائی 2024 سے پہلے خریدی گئی جائیداد پر 4.5 سے 6 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جائے گا، جبکہ 15 سال یا اس سے زائد پرانی جائیدادوں پر یہ ٹیکس نہیں لگے گا۔
زرعی شعبے کے لیے اقدامات

وزیر خزانہ نے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت چھوٹے کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کرے گی۔ 12.5 ایکڑ تک کے چھوٹے کسانوں کو 10 لاکھ روپے تک قرضے دیئے جائیں گے تاکہ وہ بیج، کھاد اور زرعی ادویات خرید سکیں۔ کسانوں کے لیے الیکٹرانک ویئر ہاؤسز بنانے کا بھی منصوبہ ہے جہاں وہ اپنی فصل اسٹور کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ فصل انشورنس کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
سماجی اور ترقیاتی پروگرامز

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کر چکی ہے اور بے نظیر ہنرمند پروگرام کو ضروری تعاون فراہم کرے گی۔ خواتین کو بھی قرضے فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں، جن میں اب تک ایک لاکھ 93 ہزار خواتین کو قرضے دیے جا چکے ہیں، اور اگلے مرحلے میں 14 ارب روپے کے مزید قرضے فراہم کیے جائیں گے۔
کاروبار، برآمدات اور ماحولیاتی تحفظ

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور برآمدات بڑھانے کے لیے اہم اقدامات کر رہی ہے۔ صنعتی پالیسی جلد جاری کی جائے گی۔ بجٹ میں ماحولیاتی آلودگی سے تحفظ کے لیے بھی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت وہ تمام اصلاحاتی اقدامات کرے گی جن سے ملکی معیشت میں استحکام اور ترقی ممکن ہو۔

مزیدخبریں