ایران اور امریکا مذاکرات کے بعد صدر مسعود پزشکیان آج پاکستان پہنچیں گے

12:40 AM, 23 Jun, 2026

اسلام آباد: ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان آج سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ ان کا یہ دورہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد ہو رہا ہے، جن میں پاکستان نے اہم سفارتی اور ثالثی کردار ادا کیا تھا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق صدارتی دفتر کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ حبیب اللہ عباسی نے بتایا کہ اس دورے کا ایک اہم مقصد وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل میں ادا کیے گئے کردار پر ان کا شکریہ ادا کرنا بھی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی صدر پزشکیان کے دورۂ پاکستان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ہمراہ وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام پر مشتمل ایک اہم وفد بھی اسلام آباد آئے گا۔

دورے کے دوران ایرانی صدر صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اس کے علاوہ چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ایرانی صدر سے ملاقات کریں گے۔

صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا یہ پاکستان کا دوسرا دورہ ہوگا۔ اس موقع پر دونوں ممالک تجارت، توانائی، سرحدی انتظام، عوامی روابط اور علاقائی رابطہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر غور کریں گے۔

دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے بعد جاری سفارتی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ خطے اور دنیا میں پیش آنے والی اہم پیش رفت پر تبادلہ خیال کا موقع بھی فراہم کرے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھانے کے لیے یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے پہلے مرحلے کے مذاکرات میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے آئندہ 60 روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک جامع لائحہ عمل پر اتفاق کیا ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ لبنان میں کشیدگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے بھی مشترکہ طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
 
 
 

مزیدخبریں