لندن / اسلام آباد :مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی اور ایران و اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی ٹکراؤ کے باعث عالمی توانائی کی منڈی میں بھونچال آ گیا ہے۔ سپلائی چین متاثر ہونے کے خدشات کے پیشِ نظر خام تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے براہِ راست اثرات پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی منڈیوں سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہ 99 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ برطانوی خام تیل (Brent) کی قیمتوں نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور یہ 112.86 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو قیمتیں مزید بلندیوں کو چھو سکتی ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کے اس طوفان کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان نے ہائی آکٹین (HOBC) پر پیٹرولیم لیوی میں بڑے اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ہائی آکٹین پر فی لیٹر لیوی 200 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔
اس سے قبل ہائی آکٹین پر لیوی کی شرح 105 روپے 37 پیسے فی لیٹر وصول کی جا رہی تھی۔مبصرین کے مطابق ہائی آکٹین پر لیوی میں قریباً 100 فیصد اضافے سے نہ صرف ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بڑھیں گے بلکہ اس کے اثرات دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور ملکی معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگی بگولے: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، پاکستان میں ہائی آکٹین پر لیوی ڈبل کرنے کا فیصلہ
01:55 PM, 23 Mar, 2026