کابل/واشنگٹن: 'فیئر آبزرور' کی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دوحہ معاہدے کے بعد طالبان کی جانب سے کی جانے والی مسلسل خلاف ورزیوں نے افغانستان کو ایک بار پھر خطے کے امن و امان کے لیے سنگین خطرہ بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان نے سیاسی مذاکرات کے بجائے طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضے کو ترجیح دی، جس نے عالمی برادری کی توقعات پر پانی پھیر دیا۔
رپورٹ میں سابق امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کی حکمت عملی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کی سفارتی کوششیں زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ واشنگٹن نے جس پر امن منتقلی کی امید لگائی تھی، وہ طالبان کی جارحانہ پالیسیوں کے باعث دم توڑ گئی۔
دوحہ معاہدے کی ایک بڑی شق قیدیوں کی رہائی تھی، تاہم رپورٹ کے مطابق رہا کیے گئے ہزاروں طالبان جنگجوؤں نے عام زندگی گزارنے کے بجائے دوبارہ عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کر لی۔ ان جنگجوؤں کی واپسی نے طالبان کی عسکری قوت میں اضافہ کیا اور کابل پر قبضے کی راہ ہموار کی۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان نے عالمی برادری سے وعدہ کیا تھا کہ افغان سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، مگر انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے کیے گئے تمام وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیاں پڑوسی ممالک اور عالمی امن کے لیے مستقل خطرہ بن چکی ہیں۔
دوحہ معاہدہ جس کا مقصد افغانستان میں استحکام لانا تھا، طالبان کی حکمتِ عملی کے باعث محض ایک 'انخلا کی دستاویز' بن کر رہ گیا، جس نے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
دوحہ معاہدے کی خلاف ورزیاں: افغانستان خطے کے لیے خطرہ بن گیا، فیئر آبزرور کی تہلکہ خیز رپورٹ
03:28 PM, 23 Mar, 2026