بھارت میں شدید گیس بحران: مودی سرکار کی پالیسیاں ناکام، ’دی اکانومسٹ‘ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

03:57 PM, 23 Mar, 2026

نئی دہلی/لندن: بھارت اس وقت بدترین گیس بحران کی لپیٹ میں ہے جس نے نہ صرف عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے بلکہ ملک کے صنعتی پہیے کو بھی بریک لگا دیے ہیں۔ برطانوی جریدے ’’دی اکانومسٹ‘‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو اس بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت میں گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے ملک بھر میں کہرام مچا رکھا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے باعث بھارت کا صنعتی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔     زراعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی کھاد کی متعدد فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، جس سے مستقبل میں خوراک کی کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
 گیس پر منحصر سیکڑوں چھوٹے اور بڑے کاروبار، بشمول مشہور ریسٹورنٹس، اپنی سرگرمیاں معطل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی شہری بنیادی ضرورتِ زندگی یعنی گیس سلنڈر کے حصول کے لیے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ شہر شہر گیس اسٹیشنز پر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور لوگ گھنٹوں انتظار کے باوجود خالی ہاتھ لوٹنے پر مجبور ہیں۔
’’دی اکانومسٹ‘‘ نے مودی سرکار کی توانائی کی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بروقت اقدامات کرنے اور عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی ترجیحات عوامی ریلیف کے بجائے کچھ اور ہیں، جس کا خمیازہ اب عام آدمی بھگت رہا ہے۔

مزیدخبریں