مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹانے کی کوشش: پاکستان، ترکیہ اور مصر امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث متحرک: رائٹرز کا دعوی

07:35 PM, 23 Mar, 2026

واشنگٹن/تہران :امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان، ترکیہ اور مصر نے بڑے پیمانے پر سفارتی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق، ان تینوں ممالک کے سینئر حکام اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ خطے کو کسی بڑے تصادم سے بچایا جا سکے۔گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پاکستان، ترکیہ اور مصر کے اعلیٰ حکام نے انتہائی اہم ملاقاتیں کی ہیں۔
 امریکی نمائندہ خصوصی سٹیو وٹک اوف سے ملاقات کر کے امریکی تحفظات اور مطالبات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے الگ ملاقات کی گئی تاکہ تہران کے موقف کو سمجھا جا سکے اور انہیں کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق، پاکستان، مصر اور ترکیہ مشترکہ طور پر دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کا مرکز درج ذیل نکات ہیں۔ فوجی نقل و حرکت اور جارحانہ بیانات کو محدود کرنا۔ غلط فہمی کی بنیاد پر شروع ہونے والی ممکنہ جنگ کو روکنا۔
مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور مصر کے ایران اور امریکہ، دونوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، جس کی وجہ سے ان کی ثالثی کو دونوں فریقین اہمیت دے رہے ہیں۔ اگر یہ کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو یہ حالیہ برسوں کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی۔

مزیدخبریں