چیف جسٹس عمر عطا بندیال 100 بااثر ترین افراد کی فہرست میں شامل 

چیف جسٹس عمر عطا بندیال 100 بااثر ترین افراد کی فہرست میں شامل 
سورس: File

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطابندیال کو امریکی ٹائم میگزین کے 2022 کے بااثرترین افراد میں شامل کرلیا گیا ہے۔ 

میگزین کے 100  بااثرترین افراد کی فہرست کے لیے چیف جسٹس عمر عطابندیال کی پروفائل معروف قانون دان اعتزاز احسن نے تحریر کی اور انہیں لیڈرز کی کیٹگری میں رکھا گیا۔

پروفائل میں لکھا گیا کہ جسٹس عمر عطابندیال کو ان کی ذاتی دیانت داری کی وجہ سے احترام سے جانا جاتا ہے اور وہ کولمبیا اور کیمبرج سے فارغ التحصیل قانون دان ہیں اور وہ نہ صرف انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ایسا کرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔

ملک کے معروف قانون دان نے چیف جسٹس کی پروفائل ملک کی سیاسی صورت حال کے پس منظر میں بیان کی گئی ہے، جہاں وزیراعظم عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا لیکن سپریم کورٹ کا کردار بھی اس معاملے پر اہم رہا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ میں ملک میں آئینی اور سیاسی بحران کو ٹال دیا۔

اعتزاز احسن نے چیف جسٹس کے بارے میں لکھا کہ ‘پاکستان 22 کروڑ آبادی کا حامل ملک ہےجہاں تاحال غیریقینی کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے، دشمن ہمسائیگی میں خراب معیشت کے ساتھ ملک کے حالات عمران خان کو فوج کی پشت پناہی کے ذریعے متحدہ اپوزیشن کی جان بسے حکومت سے ہٹانے سے پہلے بھی خراب تھے’۔

معروف قانون دان نے چیف جسٹس کے بارے میں کہا کہ چیف جسٹس عمر عطابندیال ‘شائستہ، کم گو اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو روکنے والے چیف جسٹس آف پاکستان’، کے طور پر اس وقت اسکرین پر نظر آئے جب عالمی مارکیٹ کے ساتھ ایک اور بحران جنم لے رہا تھا، جس سے قومی معیشت اور سول-ملیٹری تعلقات ایک مرتبہ پھر تناؤ ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ‘اپریل کے اوائل میں چیف جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا تھا’۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ ‘انتخابات کے قریب آتے ہی جیسے دوسروے اداروں نے سینگ چڑھائے تو عدالت حتمی ثالث بن گیا جوکہ سیاست دان چیف جسٹس کے فیصلے کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں’۔

جسٹس عمر عطا بندیال 17 ستمبر 1958 کو لاہور میں پیدا ہوئے، انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کوہاٹ، راولپنڈی، پشاور، اور لاہور سے حاصل کی، جبکہ کولمبیا یونیورسٹی سے معیشت میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔

بعد ازاں انہوں نے کیمبرج سے لا ٹرائپوس ڈگری حاصل کی اور لندن کے معروف لنکنز ان میں بطور بیرسٹر خدمات انجام دیں۔ 1983 میں  بطور ایڈووکیٹ لاہور ہائی کورٹ کی فہرست میں شامل ہوئے اور چند سال بعد بطور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان خدمات انجام دیں۔

لاہور میں اپنی پریکٹس کے دوراب جسٹس بندیال نے عموماً کمرشل بینکنگ، ٹیکس اینڈ پراپرٹی کے معلامات حل کیے، وہ 1993 کے بعد جسٹس کے عہدے پر فائز ہونے تک آپ نے بین الاقوامی تجارتی تنازعات کو بھی سنبھالا۔ جسٹس عمر بندیال سپریم کورٹ، لندن اور پیرس کی متعدد بین الاقوامی عدالتوں میں بطور ثالث بھی پیش ہوچکے ہیں۔

جسٹس عمر بندیال کو 4 دسمبر 2004 کو لاہور ہائی کورٹ کے جج کے طور پر مقرر کیا گیا تھا ان کا شمار ان ججوں میں ہوتا ہے جنہوں نے نومبر 2007 کے پروویژنل کونسٹی ٹیوشنل آرڈر (پی سی او) کے تحت حلف لینے سے انکار کردیا تھا، اس وقت 3 نومبر 2007 کو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔

تاہم عدالت کی بحالی کے سلسلے میں وکلا تحریک کے نتیجے میں انہیں جج کے عہدے پر بحال کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں جسٹس عمر بندیال نے دو سال کے لیے بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خدمات انجام دیں جبکہ جون 2014 میں ان کا تقرر سپریم کورٹ میں کردیا گیا۔

مصنف کے بارے میں