امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر سے ملاقات منسوخ کر دی، نئی پابندیوں کا اعلان

09:54 AM, 23 Oct, 2025

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کا ارادہ نہیں تھا کیونکہ انہیں یہ مناسب نہیں لگا، اس لیے اس ملاقات کو منسوخ کر دیا گیا۔ ٹرمپ نے اوول آفس میں نیٹو سیکرٹری جنرل کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج ایک اہم دن ہے، کیونکہ امریکہ نے روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ پابندیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ امریکہ آئندہ بھی روس کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ٹرمپ نے وضاحت کی کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بائیڈن کے دور میں شروع ہوئی تھی اور وہ اس جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی امید ہے کہ پابندیاں روسی صدر پیوٹن کو معقول رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیں گی۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ جب بھی انہوں نے پیوٹن سے بات کی، وہ اچھے انداز میں بات چیت ہوتی تھی، لیکن ان ملاقاتوں کا کوئی واضح نتیجہ نہیں نکلتا۔ انہوں نے یوکرین کو دی جانے والی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے بارے میں افواہوں کو مسترد کیا اور وضاحت دی کہ یوکرین امریکی نہیں بلکہ یورپی میزائل استعمال کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ، ٹرمپ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں ہر ہفتے ہزاروں افراد کی ہلاکت ہو رہی ہے اور انہوں نے اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے عالمی سطح پر مزید دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ چین اور کوریا کے دوروں کے دوران چینی صدر سے ملاقات کریں گے اور امید ہے کہ پابندیاں روسی صدر کو سوچنے پر مجبور کر دیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بائیڈن امریکی تاریخ کے بدترین صدر ہیں اور انہوں نے امریکہ کے داخلی مسائل جیسے غیر قانونی داخلے کے معاملات پر بھی بات کی۔

نیو سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے اس بات کو سراہا کہ مزید پابندیاں روسی صدر پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہیں تاکہ وہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت روس یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے۔

مزیدخبریں