انڈین گٹکا اور سپاری کی سمگلنگ سے ملکی معیشت کو 100 ارب روپے کا سالانہ نقصان

03:21 PM, 23 Oct, 2025

لاہور:پاکستان میں بھارت سے انڈین گٹکا، سپاری اور پان کے دیگر اجزاء کی سمگلنگ ملک خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے لگی ہے۔ سالانہ تقریباً 650 کنٹینرز گٹکا اور سپاری مختلف راستوں سے سمگل ہو کر مارکیٹ میں آ رہے ہیں، جبکہ متعلقہ محکمے صرف 50 کنٹینرز کلیئر کر کے اپنی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سمگلنگ سے ملکی معیشت اور ڈیوٹی کے حوالے سے سالانہ 100 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔ یہ نقصان نہ صرف سرکاری خزانے کو پہنچتا ہے بلکہ غیر معیاری اور غیر قانونی مصنوعات کی وجہ سے عوام کی صحت کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔

پاکستان میں پان، گٹکا اور سپاری کھانے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، خاص طور پر نوجوانوں اور مزدور طبقے میں ان مصنوعات کی مقبولیت بہت زیادہ ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ اس غیر قانونی تجارت کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کریں تاکہ ملکی معیشت اور عوام کی صحت دونوں کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

مزیدخبریں