پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں ، لاکھوں روپے کی فصلیں تباہ، لوگ بے گھر

11:40 AM, 23 Sep, 2025

ملتان : پنجاب میں جاری شدید سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ ملتان میں کروڑوں روپے کی گندم پانی میں بہہ گئی ہے جبکہ اوچ شریف میں ایک بیوہ خاتون اپنے چھ بچوں کے ساتھ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

اوچ شریف کی بستی کھوکھراں  میں بھی مویشی اور سارا سامان سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔ پاکپتن میں دریائے ستلج کے شدید کٹاؤ نے گاؤں باقر کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ کٹاؤ کو روکنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں اور اب ہیوی مشینری کے ذریعے کٹاؤ روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ متاثرہ لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔

علی پور اور سیت میں پاسکو حکام کی مبینہ غفلت کی وجہ سے کروڑوں روپے مالیت کی گندم سیلابی پانی میں ضائع ہو گئی۔ سیت پور میں پاسکو کے دو بڑے گودام سیلاب میں آ گئے اور ہزاروں بوریاں خراب ہو گئیں۔ پی ڈی ایم اے نے سیلاب کی پیشگی وارننگ دی تھی مگر حفاظتی اقدامات بروقت نہیں کیے گئے۔

دریائے سندھ کے مختلف بیراجوں پر پانی کی آمد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ کوٹری بیراج پر پانی کا بہاؤ بڑھ کر 3 لاکھ 76 ہزار کیوسک ہو گیا ہے جبکہ گڈو اور سکھر بیراج پر بہاؤ معمول پر آ گیا ہے۔ منگلا ڈیم بھی 98 فیصد تک بھر چکا ہے اور صرف دو فٹ پانی کی گنجائش باقی ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کے ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر آ گیا ہے، تاہم دریائے ستلج میں درمیانے سے نچلے درجے کی سیلابی صورتحال جاری ہے۔

سیلابی پانی کی سطح میں کمی ہو رہی ہے، لیکن کئی علاقوں میں بحالی کے کام تاحال جاری ہیں۔ مختلف مقامات پر دریاؤں میں پانی کی مقدار درج ذیل ہے:

دریائے ستلج: گنڈا سنگھ والا پر 83 ہزار کیوسک، سلیمانکی پر 81 ہزار کیوسک
دریائے چناب: مرالہ پر 36 ہزار، خانکی ہیڈ ورکس پر 29 ہزار کیوسک
دریائے راوی: جسڑ پر 6 ہزار، شاہدرہ پر 5 ہزار کیوسک
ڈیرہ غازی خان ڈویژن کی رود کوئیوں میں پانی کا بہاؤ بند ہے اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام جاری ہیں۔

مزیدخبریں