نیویارک : وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں سالانہ اجلاس میں آج پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ وزیراعظم اقوام متحدہ کے باضابطہ افتتاحی اجلاس میں بھی شریک ہوں گے، جہاں وہ اہم عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کو امریکہ اور قطر کی میزبانی میں ہونے والے عرب و اسلامی ممالک کے خصوصی سربراہی اجلاس میں بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر عالمی رہنما بھی شریک ہوں گے۔
وزیراعظم کا دورہ نہایت مصروف شیڈول پر مشتمل ہے، جس میں وہ متعدد عالمی شخصیات سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان میں آسٹریا کی چانسلر کرسٹینا سٹاکر، کویت کے ولی عہد و وزیراعظم شیخ صباح الخالد، عالمی بینک کے صدر اجے بنگا، اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا شامل ہیں۔
ان ملاقاتوں میں باہمی اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، اور ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف عالمی ترقیاتی اقدام (Global Development Initiative - GDI) کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جہاں وہ ترقیاتی اہداف اور پاکستان کے مؤقف پر خطاب کریں گے۔
دورہ نیویارک کے دوران وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنماؤں سے ملاقات بھی کی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب ہماری حکومت آئی، تو ملک شدید معاشی بحران کا شکار تھا، تاہم اب معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے اور مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
وزیراعظم نے ملک میں جاری سکیورٹی آپریشن "بُنْیَانٌ مَرْصُوصٌ" کا ذکر کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر فورم پر فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے، اور اقوام متحدہ میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا مؤقف بھی بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے گا۔