نیویارک: ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے انسانیت سوز المیہ قرار دیا اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔
اپنے خطاب میں صدر اردوان نے کہا کہ "غزہ میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں جاری ہیں، اسرائیلی افواج نہتے شہریوں اور بچوں کا قتل عام کر رہی ہیں، اور عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے"۔ انہوں نے اقوام عالم کو غزہ میں بھوک سے بلکتے بچوں کی تصاویر بھی دکھائیں اور کہا کہ ہر گزرتا دن فلسطینیوں کے لیے عذاب بن چکا ہے۔
صدر اردوان کا کہنا تھا کہ "غزہ میں 700 دن سے جاری نسل کشی نے طبی نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، ڈاکٹرز، ایمبولینسیں اور اسپتال سب اسرائیلی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں"۔ ان کے مطابق غزہ میں غذائی قلت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ بچے دم توڑ رہے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ "اسرائیل نے جان بوجھ کر 250 صحافیوں کو قتل کیا، جبکہ معصوم شہریوں کے ساتھ ساتھ جانوروں، زرعی زمینوں اور املاک کو بھی تباہ کر دیا گیا"۔ ان کا کہنا تھا کہ "ایک طرف معصوم بچے ہیں، دوسری طرف مہلک ہتھیار، یہ جنگ نہیں بلکہ بربریت ہے"۔
ترک صدر نے واضح طور پر کہا کہ "مقبوضہ مغربی کنارے میں حماس کا کوئی وجود نہیں، پھر بھی اسرائیل وہاں بھی فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہا ہے"۔ انہوں نے قطر پر اسرائیلی حملے کو امن دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے "پاگل پن" کو اب مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
رجب طیب اردوان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ "غزہ میں فوری جنگ بندی کی جائے اور فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے"۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان تمام ممالک کا خیرمقدم کرتے ہیں جنہوں نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا۔
خطاب کے اختتام پر ترک صدر نے کہاہم فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے، اور ہماری آنکھوں کے سامنے معصوم بچوں کی جانیں جا رہی ہیں یہ انسانیت کی مکمل شکست ہے۔"