مسٹر بیسٹ نے بچوں کو چائلڈ لیبر سے نکالنے کے لیے گھانا میں گاؤں بنا دیا

11:32 AM, 23 Sep, 2026

گھانا : مشہور یوٹیوبر جمی ڈونلڈسن، جو مسٹر بیسٹ کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے گھانا میں بچوں کو غیر قانونی مزدوری سے نکال کر تعلیم کی جانب لانے کے لیے تقریباً ایک کروڑ ڈالر کی لاگت سے ایک مکمل بستی تعمیر کردی۔

’ابنا ڈکوا ولیج‘ نامی اس منصوبے میں 300 سے زائد بچوں کے لیے سکول، اساتذہ کے رہائشی گھر، طبی مرکز، لائبریری، مارکیٹ، صاف پانی اور تفریحی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

بستی کو خودکفیل بنانے کے لیے سولر انرجی، فارم، مچھلیوں کے ٹینک اور پولٹری فارم بھی قائم کیے گئے ہیں، جبکہ بچوں کے لیے مفت کھانے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

مسٹر بیسٹ کے مطابق صرف سکول بنانا کافی نہیں، کیونکہ بھوک بچوں کی تعلیم پر اثر انداز ہوتی ہے۔ منصوبے کے تحت گھانا اور کینیا میں ہزاروں بچوں کو اسکولوں میں مفت کھانا فراہم کرنے کے لیے بھی تعاون کیا جائے گا۔

یوٹیوبر نے چاکلیٹ کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ کوکوا کی صنعت میں بچوں سے مشقت کے مسئلے کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کریں۔

مزیدخبریں