پولیس کو یرغمال بنانے کی سازش،ایک آرڈیننس جو وفاق پر حملہ ہے

05:20 PM, 23 Sep, 2026

تحریر : حافظ سید عاصم علی 


بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح نے 30 نومبر 1947 کو یونیورسٹی سٹیڈیم لاہور میں اپنے تاریخی خطاب میں فرمایا تھا کہ "پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اسے مٹا نہیں سکتی"۔
قائد کا یہ فرمان آج بھی دشمنانِ پاکستان کے سینہ میں خنجر کی طرح پیوست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 78 سال گزرنے کے باوجود ملک دشمن عناصر نے پاکستان کو ختم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ کبھی بیرونی محاذ پر حملہ، کبھی اندرونی سازش۔ کبھی کوئی خاتون دشمن ملک کے وزیرِ اعظم سے پاکستان پر حملہ کرنے کی فرمائش کر دیتی ہے، تو کبھی ایک ضدی اور انا پرست لیڈر کے بیٹے یورپی صدور سے مل کر ملک میں انتشار اور تعصب کا بیج بوتے نظر آتے ہیں۔
دنیا جانتی ہے کہ اس وقت پاکستان نہ صرف بیرونی طاقتوں سے نبرد آزما ہے، بلکہ اندرونی دشمنوں کے سامنے بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا ہوا ہے۔
تازہ ترین اور سب سے خطرناک وار خیبر پختونخوا اسمبلی میں کیا جانے والا ہے۔ وہ لوگ جو پہلے اپنی پاک افواج کے متعلق ہرزہ سرائی کیا کرتے تھے، جب وہ افواجِ پاکستان کا بال بھی بیکا نہ کر سکے، تو اب انہوں نے اپنا رخ پاکستان کے اندرونی محافظوں یعنی خیبر پختونخوا پولیس کی طرف موڑ لیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق تحریکِ انصاف، جسے اب تحریکِ انتشار کہنا زیادہ مناسب ہوگا، نے اسمبلی میں ایک کالا قانون، "خیبر پختونخوا پولیس آرڈیننس 2026" پیش کر دیا ہے۔ یہ آرڈیننس ابھی پاس نہیں ہوا، مگر اس کا صرف پیش ہونا ہی اس جماعت کے ناپاک عزائم کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔
یہ آرڈیننس بظاہر ایک انتظامی مسودہ لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ پاکستان کے وفاق پر، پاکستان کے آئین پر اور پاکستان کی سلامتی پر سیدھا حملہ ہے۔
اس مسودے کے مطابق خیبر پختونخوا کی پوری پولیس صوبے کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے ماتحت کر دی جائے گی۔ یعنی جو آئی جی خیبر پختونخوا آج وفاق کو جواب دہ ہے، جو وفاقی سسٹم کا حصہ ہے، اس مجوزہ آرڈیننس کے بعد وہ ایک شخص، ایک جماعت اور ایک انتشار پسند ٹولے کا ذاتی ملازم بن کر رہ جائے گا۔
مقصد بالکل واضح  ہو چکا ہے۔ شخصیت پرستی اور اپنے بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے یہ انتشاری جماعت ہر وقت ملک میں فساد پھیلانے کے لیے تیار رہتی ہے۔ جب بھی ان کو اسلام آباد پر چڑھائی کرنی ہو، جب بھی سرکاری املاک پر حملہ کرنا ہو، تو وفاقی پولیس ان کے سامنے ڈٹ جاتی ہے۔
اب یہ چاہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا پولیس کو اپنا ذاتی لشکر بنا لیں۔ کل کو جب یہ دوبارہ وفاق پر حملہ آور ہوں گے تو یہی پولیس ان کے آگے سے ہٹ جائے گی، یا ان کی محافظ بن جائے گی۔ یہ پولیس جس نے تحریکِ انتشار کے ہر فساد کے سامنے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جس کے جوانوں نے اس صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ خون دیا، آج اسی پولیس کو اسی انتشاری ٹولے کے ہاتھوں یرغمال بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یہ وہی طرزِ عمل ہے جس کا انتظار تمام دشمن ممالک کر رہے تھے۔ بھارت اور دیگر دشمن قوتیں ہمیشہ سے چاہتی تھیں کہ پاکستان کی پولیس، پاکستان کی فوج اور پاکستان کے وفاقی ادارے کمزور ہوں۔ جو کام دشمن سرحد پار سے نہ کر سکا، وہ کام آج خیبر پختونخوا حکومت اسمبلی کے اندر بیٹھ کر کرنے جا رہی ہے۔
یہ مسودہ دراصل پولیس کو سیاسی غلام بنانے کا منصوبہ ہے۔ اگر یہ پاس ہو گیا تو کل کو آئی جی خیبر پختونخوا کسی دہشت گرد کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس سے اجازت لے گا۔ اگر یہ پاس ہو گیا تو کوئی افسر اگر ان کے کسی کارکن کو قانون کے مطابق گرفتار کرے گا تو اسے راتوں رات تبدیل کر دیا جائے گا۔ اس سے صوبے میں بدامنی پھیلے گی، دہشت گردوں کو فائدہ ہوگا اور نقصان صرف اور صرف پاکستان کا ہوگا۔
خیبر پختونخوا پولیس ایک قومی ادارہ ہے، یہ کسی سہیل آفریدی یا کسی جماعت کی ذاتی جاگیر نہیں ہے۔
پورا ملک اس مجوزہ سازش پر ورطہِ حیرت میں ہے۔ ملک میں کھلے عام انتشار سے ملک کو توڑنے کی یہ سازش اب بے نقاب ہو چکی ہے۔ وفاقی حکومت، عدالتِ عظمیٰ اور تمام محبِ وطن قوتوں کو چاہیے کہ اس کالے مسودے کا فوری نوٹس لیں۔ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اور ان کے اسمبلی ممبران کو اس ملک دشمن اقدام کو پیش کرنے پر ہی نظرِ ثانی کرنی چاہیے اور اسے فوری واپس لینا چاہیے۔پولیس کو غلام نہ بناؤ، پولیس کو محافظ رہنے دو۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد!

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا  ضروری نہیں ہے۔

مزیدخبریں