لندن: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن کے مطابق شمالی لندن میں واقع پارٹی سربراہ کے گھر میں 2 افراد نے داخل ہونے کی کوشش کی جو کامیاب نہ ہو سکی۔ متحدہ لندن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق دو افراد جن میں سے ایک ممکنہ طور پر ایشیائی اور دوسرا افریقن تھا نے 22 اور 23 اگست کی درمیانی شب بانی ایم کیو ایم کے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم ہمسایوں اور گارڈز کی نظر میں آنے کے باعث یہ دونوں افراد سفید رنگ کی گاڑی میں بھاگ نکلے۔
بیان میں متحدہ لندن کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ صرف ان کے گھر میں داخل ہونے کی ناکام کوشش ہی نہیں بلکہ اقدامِ قتل یا متحدہ بانی کو جسمانی نقصان پہنچانے کی کوشش بھی ہے۔ ایم کیو ایم لندن کا کہنا تھا کہ واقعے کی تفصیلات سے میٹرو پولیٹن پولیس کو آگاہ کر دیا گیا جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ پولیس ذرائع نے بھی صبح سویرے ایبے ویو سے ایک فون کال موصول ہونے کی تصدیق کی۔
دوسری جانب ایم کیو ایم لندن نے برطانوی وزیراعظم تھریسامے سے اپیل کی کہ وہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں جبکہ متحدہ بانی کو فول پروف سیکیورٹی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
واضح رہے کہ ایبے ویو میں موجود ایم کیو ایم بانی کی رہائش گاہ ماضی میں بھی پولیس سرگرمیوں کا مرکز رہی ہے۔ 2010 میں ایم کیو ایم کے سینئر رہنما عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں برطانوی پولیس نے شمالی لندن میں ایم کیو ایم کے دفاتر اور بانی کی رہائش گاہ پر کئی چھاپے مارے۔ ان چھاپوں کے دوران پولیس نے بڑی تعداد میں رقم اور دیگر دستاویزات برآمد کیں جن کے بعد طویل عرصے تک چلنے والی منی لانڈرنگ تحقیقات کا آغاز ہوا تاہم یہ تحقیقات 2016 میں ختم کر دی گئیں تھیں۔
نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں