آئی فون 18 پرو کی قیمت میں 100 ڈالر اضافے کا امکان

06:31 PM, 24 Aug, 2026

اسلام آباد: ایپل کی جانب سے رواں سال ستمبر میں متوقع آئی فون 18 پرو سیریز کی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد نئی ڈیوائسز صارفین کے لیے پہلے کے مقابلے میں مزید مہنگی ہوسکتی ہیں۔

بلومبرگ کے معروف ٹیکنالوجی تجزیہ کار مارک گرمان کے مطابق ایپل آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس کی قیمت میں تقریباً 100 ڈالر تک اضافہ کرنے پر غور کر رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس کی ابتدائی قیمت 1,199 ڈالر مقرر کیے جانے کا امکان ہے، جو آئی فون 17 پرو کے مقابلے میں تقریباً 100 ڈالر زیادہ ہوگی۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم تقریباً 3 لاکھ 35 ہزار روپے بنتی ہے، تاہم پاکستان میں فون کی اصل قیمت درآمدی ڈیوٹی، ٹیکسز، کرنسی ریٹ اور دیگر اخراجات کے باعث اس سے کافی مختلف ہوسکتی ہے۔

قیمت میں اضافے کی ممکنہ وجہ
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ قیمت بڑھنے کی ایک اہم وجہ DRAM اور NAND اسٹوریج کی بڑھتی ہوئی لاگت ہوسکتی ہے۔ ایپل کو میموری اور اسٹوریج سے متعلق پرزہ جات کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا ہے، جس کے باعث کمپنی اضافی پیداواری لاگت کا کچھ حصہ صارفین تک منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔

مارک گرمان کے مطابق اگر آئی فون 18 پرو کی قیمت میں 100 ڈالر کا اضافہ کیا جاتا ہے تو یہ اضافہ میموری اور اسٹوریج کے پرزوں کی بڑھتی ہوئی لاگت کے مقابلے میں نسبتاً محدود ہوگا۔

صرف پرو ماڈلز ہی نہیں بلکہ ایپل کے دیگر آئی فونز کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق آئی فون 17، آئی فون ایئر اور آئی فون 17e بھی ممکنہ قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

ایپل کی جانب سے آئی فون 18 پرو سیریز کو رواں سال ستمبر میں متعارف کرائے جانے کی توقع ہے۔ نئی آئی فون سیریز کے ساتھ کمپنی کی جانب سے اپنا پہلا بک اسٹائل فولڈ ایبل آئی فون بھی پیش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

اس کے علاوہ نئے ایپل واچ اور ایئر پوڈز ماڈلز بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ستمبر کا ایپل لانچ ایونٹ ٹیکنالوجی صارفین کی خاص توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔

تاہم آئی فون 18 پرو اور دیگر ماڈلز کی نئی قیمتوں سے متعلق معلومات فی الحال حتمی نہیں ہیں۔ ایپل نے ابھی تک قیمتوں میں اضافے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، اس لیے حتمی قیمتوں کا اعلان کمپنی کی جانب سے مصنوعات کی باقاعدہ رونمائی کے وقت ہی متوقع ہے۔

مزیدخبریں