این جی سی کا نیپرا کی کارکردگی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار، حقائق کی وضاحت

11:30 PM, 24 Feb, 2026

لاہور : نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان (این جی سی) نے نیپرا کی جانب سے مالی سال 2024-25 کی ٹرانسمیشن سیکٹر رپورٹ میں اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان این جی سی نے واضح کیا ہے کہ قومی ٹرانسمیشن نظام ایک مربوط نیٹ ورک ہے جسے محض اعداد و شمار کی بنیاد پر نہیں بلکہ آپریشنل حقائق کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔
ترجمان کے مطابق، ٹرانسمیشن لائنز یا ٹرانسفارمرز پر کسی خاص وقت میں 80 فیصد سے زائد لوڈ ہونا لازماً خطرے کی علامت نہیں ہوتا۔رپورٹ میں جن پیک ویلیوز کا ذکر ہے وہ محض مختصر دورانیے (آدھے گھنٹے) کے لیے تھیں، جو کہ سسٹم کے ڈیزائن کی حدود کے اندر ہیں۔
 ٹرانسفارمر کی کارکردگی کا دارومدار صرف لوڈ پر نہیں بلکہ تیل اور وائنڈنگ کے درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔ سولر انرجی کے باعث اب پیک لوڈ رات کو منتقل ہو گیا ہے جب درجہ حرارت کم ہوتا ہے، جس سے آلات پر دباؤ کم پڑتا ہے۔
نیپرا کے اس دعوے پر کہ مٹیاری-لاہور لائن کا استعمال کم ہے، این جی سی نے وضاحت کی کہ  گرمیوں کے دوران اس کوریڈور سے 4500 میگاواٹ تک بجلی منتقل کی گئی، جو اس کی افادیت کا ثبوت ہے۔لاہور نارتھ گرڈ کی تکمیل اور 132 کے وی لیول پر بہتری کے بعد اس لائن کے استعمال میں مزید اضافہ ہوگا۔
این جی سی نے مانیٹرنگ سسٹم کو پرانا قرار دینے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ فروری 2025 میں جدید ڈیجیٹل سکاڈا پلیٹ فارم فعال کیا گیا ہے۔نیٹ ورک کا 70 فیصد سے زائد حصہ ریئل ٹائم مانیٹرنگ کے تحت ہے اور مزید توسیع جاری ہے۔
سسٹم کی سیکیورٹی کے لیے جدید WAMS ٹیکنالوجی کا پائلٹ پراجیکٹ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
کمپنی نے تسلیم کیا کہ بعض بڑے منصوبوں میں تاخیر ہوئی، تاہم اس کی وجوہات کمپنی کے کنٹرول سے باہر تھیں، جن میں
زمین کے حصول اور رائٹ آف وے (ROW) کے قانونی مسائل۔
سکیورٹی چیلنجز اور پیچیدہ مالیاتی عمل۔
ترجمان نے مزید کہا کہ این جی سی اندرونی گورننس اور رسک مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اصلاحات کر رہی ہے تاکہ صارفین پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے۔

مزیدخبریں