امریکی حملے کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر سپریم لیڈرخامنہ ای کو قلعہ نما پناہ گاہ میں منتقل کر دیا گیا

08:14 PM, 24 Jan, 2026

تہران :  ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ممکنہ امریکی حملے کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر تہران میں ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایرانی فوجی اور سکیورٹی حکام نے اس فیصلے کے پیچھے امریکی حملے کے امکانات میں اضافے کو بنیاد بنایا ہے، جس کے بعد خامنہ ای کو ایک انتہائی محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایران انٹرنیشنل نامی ایک اپوزیشن ویب سائٹ کے مطابق، ایرانی حکام نے حالیہ دنوں میں امریکی حملے کے امکانات کو سنجیدہ طور پر سمجھا اور اس کے بعد سپریم لیڈر کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے انہیں ایک زیرِ زمین قلعے کی مانند مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ پناہ گاہ ایک قلعہ نما مقام ہے جس میں آپس میں جڑی ہوئی سرنگیں موجود ہیں، جو نہ صرف سپریم لیڈر کی حفاظت کے لیے بنائی گئی ہیں بلکہ ایران کی اعلیٰ قیادت کی سلامتی کے لیے بھی اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق، یہ زیرِ زمین پناہ گاہ نہ صرف فوجی لحاظ سے مضبوط ہے بلکہ اس میں جدید ترین سیکیورٹی نظام بھی نصب ہیں، جس کی بدولت کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچاؤ ممکن ہو سکے گا۔

اس کے علاوہ، ویب سائٹ نے یہ بھی بتایا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے روزمرہ کے امور کی نگرانی کے لیے ان کے تیسرے بیٹے، مسعود خامنہ ای نے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ مسعود خامنہ ای اب اپنے والد کے دفتر کے انتظامی امور کی نگرانی کر رہے ہیں اور اس دوران سپریم لیڈر کی عدم موجودگی میں ان کے دفتر کی روزمرہ کارروائیوں کو برقرار رکھ رہے ہیں۔

ایران کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ ایران نے امریکی حملے کے خطرات کے پیشِ نظر اپنے دفاعی اقدامات میں اضافہ کیا ہے اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم شخصیات کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی تمام تر کوششیں ملک کی سکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ہیں، اور وہ کسی بھی بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کئی مہینوں سے بڑھ رہی ہے، جس میں امریکی حکومت کی طرف سے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں اور ایران کے جوہری پروگرام کو لے کر دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

اس صورتحال میں، ایران کی حکومت اپنے اعلیٰ ترین رہنما کی حفاظت کے لیے یہ قدم اٹھا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے سے بچا جا سکے اور ملک کی قیادت کو محفوظ رکھا جا سکے۔

 
 

مزیدخبریں