گلگت بلتستان میں بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں، 7 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی

10:10 AM, 24 Jul, 2025

گلگت : گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے شدید تباہی مچائی ہے، جس کے نتیجے میں 5 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے، جن میں 4 سیاح بھی شامل ہیں۔ سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر لودھراں کی رہائشی ڈاکٹر مشعال سمیت دیگر افراد کی جانیں گئیں۔ ان کی میتیں آبائی گاؤں روانہ کر دی گئیں ہیں اور یہ میتیں شاہراہ ریشم کے ذریعے روانہ کی گئیں۔

چلاس میں ایک سیلابی ریلے کے دوران تمام افراد نے پہاڑ کے نیچے چھپنے کی کوشش کی، لیکن ریلے کی شدت نے کئی لوگوں کو بہا لیا۔ لودھراں کے شہری فہد اسلام کے بیٹے عاصم فہد نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس حادثے میں ان کی چچی مشعال اور کمسن کزن عبدالہادی ریلے میں بہہ گئے، جب ان کو بچانے کے لیے ان کے والد نے پانی میں چھلانگ لگا دی تھی۔

چلاس میں ریلے کے نتیجے میں 15 سیاح لاپتہ ہو گئے، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ سیلابی ریلوں کی وجہ سے سڑکیں اور پل ٹوٹ گئے ہیں، جس سے شاہراہ قراقرم اور کے ٹو جانیوالی شاہراہ پر سفر مشکل ہو گیا ہے۔ دریائے شگر میں طغیانی کی وجہ سے ایک پل ٹوٹنے سے سیکڑوں کوہ پیما پھنس گئے ہیں۔

آزاد کشمیر میں بھی طوفانی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچائی۔ برساتی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے درجنوں گھر اور دکانیں تباہ ہو گئیں۔ مختلف حادثات میں 2 افراد جاں بحق اور 9 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کئی سڑکیں بند ہو گئی ہیں، اور شونٹر ویلی کا زمینی رابطہ منقطع ہونے سے وہاں کی 10 ہزار کی آبادی محصور ہو گئی ہے۔

مزیدخبریں