آبنائے ہرمز پر ایران، خلیجی ممالک اور عراق کے مذاکرات کی راہ ہموار، قطری وزیراعظم عمان پہنچ گئے

08:07 PM, 24 Jun, 2026

مسقط: قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے بدھ کے روز عمان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے آبنائے ہرمز کے انتظام، جہاز رانی اور سمندری خدمات کے مستقبل کے حوالے سے ایران، عراق اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان مجوزہ مذاکرات پر عمانی قیادت سے مشاورت کی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن عمل اور بارودی سرنگوں کی صفائی سے متعلق انتظامات سے الگ ہوں گے۔ مجوزہ بات چیت میں سمندری گزرگاہ کے استعمال، بحری سلامتی اور مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی ٹرانزٹ فیس نہ لگانے کی حمایت کریں گے، جبکہ ایران ماحولیاتی تحفظ، نیویگیشن اور سکیورٹی خدمات کے حوالے سے مخصوص فیسوں کی تجویز دے سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ 28 فروری کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث اس اہم بحری راستے پر تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں جس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر بھی مرتب ہوئے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت گزشتہ ہفتے طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی معاہدے (ایم او یو) کے تحت ہونے والی پیش رفت کا حصہ ہے، جس میں ایران، عمان، عراق اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور بحری خدمات کے مستقبل کے انتظام پر مذاکرات کی شق شامل تھی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ان مذاکرات کے لیے پاکستان کا نام ممکنہ ثالث کے طور پر زیر غور ہے، جو خطے میں امن اور سفارتی کوششوں میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

دوسری جانب ایران، خلیجی عرب ممالک اور دیگر علاقائی ریاستوں کے درمیان مفاہمتی اور مصالحتی مذاکرات کے انعقاد کی بھی تجویز زیر غور ہے، جن کے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ادھر عمان نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے عارضی بحری راستوں کا اعلان کیا ہے۔ عمانی حکام کے مطابق موجودہ شپنگ لین کے شمال اور جنوب میں دو متبادل راستے قائم کیے گئے ہیں، جنہیں بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق مرحلہ وار منصوبے کے تحت جہازوں کو گروپوں کی صورت میں روانگی کی اجازت دی جائے گی اور ہر جہاز کو الگ سے ہدایات جاری کی جائیں گی کہ وہ کب اور کس راستے سے سفر کرے۔

عمانی حکام نے واضح کیا ہے کہ جہاز مالکان اور کپتان اپنی سکیورٹی اور خطرات کے جائزے کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ تمام جہازوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر کے دوران اپنا آٹومیٹک آئیڈینٹیفکیشن سسٹم (AIS) فعال رکھیں اور کسی بھی خطرے یا رکاوٹ کی فوری اطلاع عمان میری ٹائم سکیورٹی سینٹر کو دیں۔

عمان نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس یا اضافی فیس عائد نہیں کی جائے گی۔ یہ فیصلہ حالیہ امریکی۔ایرانی سفارتی رابطوں کے تناظر میں کیا گیا ہے تاکہ بین الاقوامی جہاز رانی کو بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔

علاوہ ازیں ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور سمندری خدمات کے انتظام سے متعلق باضابطہ مذاکرات کا آغاز بھی ہو چکا ہے، جنہیں خطے میں بحری استحکام اور تعاون کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مزیدخبریں