غیر ملکی سرمایہ کاری میں تاریخی کمی ، بھارت کی جارحانہ پالیسیوں نے معیشت کو بحران سے دوچار کر دیا

01:25 PM, 24 May, 2025

ممبئی :بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری شدید کمی کا شکار ہو چکی ہے، جس کا تعلق براہِ راست مودی حکومت کی سخت گیر اور جارحانہ پالیسیوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ مالی سال 2024-25 کے دوران بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 96.5 فیصد کی غیر معمولی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

حکام کے مطابق، گزشتہ برس بھارت کو 10 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری حاصل ہوئی تھی، تاہم رواں سال یہ رقم کم ہو کر محض 353 ملین ڈالر تک رہ گئی ہے۔ معاشی ماہرین کے نزدیک یہ محض ایک عددی کمی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھارت کے بارے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور سفارتی تنہائی کا اظہار ہے۔

بین الاقوامی سرمایہ کار بھارت کی موجودہ خارجہ پالیسی، داخلی کشیدگی، اور ہمسایہ ممالک سے بگڑتے تعلقات کو خطرے کی گھنٹی سمجھتے ہوئے سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پُرامن اور مستحکم ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔

اپوزیشن اور معاشی ماہرین مودی حکومت پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ جارحانہ بیانیے، انتہا پسندانہ رویے، اور سفارتی ناکامیوں نے بھارت کی معیشت کو بیرونی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔

ماہرین نے تنبیہ کی ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو بھارت کو آئندہ چند مہینوں میں مالیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات مہنگائی، بیروزگاری اور صنعتی زوال کی صورت میں نمایاں ہوں گے۔

عالمی مبصرین کے مطابق، اتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا انخلا نہ صرف بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے بلکہ پورے خطے کے لیے معاشی عدم استحکام کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے۔

مزیدخبریں