افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی پر پاکستان کا مؤقف درست ثابت، برطانوی خصوصی نمائندے کا افغان سرزمین کے استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار

12:29 PM, 24 May, 2026

اسلام آباد / لندن: افغانستان سے آپریٹ کرنے والے عالمی دہشت گرد نیٹ ورکس کے معاملے پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی بین الاقوامی سطح پر توثیق ہو گئی ہے۔ برطانیہ نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ افغان سر زمین پر دہشت گرد تنظیمیں بدستور سرگرم ہیں، جو علاقائی سلامتی کے لیے بم جیسی حیثیت رکھتی ہیں۔

افغانستان کے لیے برطانیہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ لنڈسے نے کابل انتظامیہ کو کڑے ہاتھوں لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے ہر صورت روکنا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پورے خطے کے امن و امان کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔

     سفارتی حلقوں کے مطابق، برطانوی سفیر کا یہ بیان پاکستان کی اس تشویش کی عکاسی کرتا ہے جو وہ طویل عرصے سے دنیا کے سامنے رکھ رہا ہے۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ٹی ٹی پی اور دیگر کالعدم تنظیمیں افغان مٹی کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں سکیورٹی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

     برطانوی نمائندے کے اس بیان نے طالبان حکومت کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں وہ افغان سر زمین کو پرامن قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کابل انتظامیہ نے ان پناہ گاہوں کے خلاف فوری ایکشن نہ لیا، تو خطے میں سکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

مزیدخبریں