اسلام آباد:ملک بھر میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج سامنے آنے کے بعد سیاسی ردعمل جاری ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ووٹرز نے ضمنی الیکشن میں بائیکاٹ کرنے والوں کا ’تیا پانچہ‘ کر دیا اور عوام نے اپنی رائے کے ذریعے انتخابی عمل کی حمایت کی۔
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا پنجاب میں ووٹرز کے ساتھ سوتیلا اور دہرا معیار قابل فہم نہیں، اور الیکشن کمیشن کے اقدامات کا جواب آئین کے مطابق دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پنجاب میں ضمنی انتخابات میں ٹرن آؤٹ بہترین رہا اور عوام نے حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ضمنی انتخابات میں پنجاب کا کم ترین ٹرن آؤٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے الیکشن پر عدم اعتماد ظاہر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی کو پنجاب میں انتخابی مہم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، اور اسی وجہ سے چند حلقوں میں بائیکاٹ کیا گیا۔ ہری پور کے غیر حتمی نتائج پر بھی انہوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ ’جو نتائج دکھائے جا رہے ہیں وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہیں‘۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز نے کسی بھی ضمنی انتخابی حلقے میں ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح نہیں کیا، اور سہیل آفریدی جھوٹ بول کر سرکاری افسران کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔
غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی کی تمام 6 نشستیں جیت لیں جبکہ صوبائی اسمبلی کی 7 میں سے 6 نشستیں اپنے نام کیں۔ پیپلز پارٹی نے ایک نشست حاصل کی، اور تحریک انصاف اپنی چھوڑی گئی نشستیں واپس حاصل نہ کر سکی۔