ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلم ممالک کے رہنماؤں سے اہم ملاقات، غزہ جنگ کے حل پر تبادلہ خیال

09:19 AM, 24 Sep, 2025

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مسلم ممالک کے سربراہان نے اہم ملاقات کی، جس میں غزہ سمیت مشرق وسطیٰ کی سنگین صورت حال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی شریک تھے۔

امریکی صدر نے ملاقات کے دوران کہا کہ اسلامی ممالک کے رہنماؤں سے ملنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے مسلم قیادت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کا اجلاس دن کے 32 اجلاسوں میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تمام فریقین کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی بازیابی اور انسانی بحران کا حل اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

اجلاس میں شریک امیرِ قطر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جنگ فوری طور پر بند ہونی چاہیے، کیونکہ وہاں انسانی صورت حال نہایت خراب ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے اس اجلاس میں اس سنگین مسئلے کا کوئی مؤثر حل نکالا جا سکے گا۔

ملاقات میں ترکیہ، سعودی عرب، قطر، انڈونیشیا، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے بعد تمام رہنما بغیر میڈیا سے گفتگو کیے ہال سے روانہ ہو گئے، جس کے باعث ملاقات کی مزید تفصیلات منظرِ عام پر نہ آ سکیں۔

دوسری جانب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن عرب اور مسلم ممالک سے توقع رکھتا ہے کہ وہ غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے فوجی دستے بھیجیں تاکہ اسرائیلی افواج کو انخلا کا موقع مل سکے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا یہ بھی چاہتا ہے کہ عرب ممالک فلسطینی علاقوں میں اقتدار کی منتقلی اور تعمیر نو کے عمل میں مالی معاونت فراہم کریں۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ میں انسانی المیہ شدت اختیار کر چکا ہے اور عالمی برادری کی نظریں مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کے کسی ممکنہ حل پر مرکوز ہیں۔

مزیدخبریں