2030 کا پاکستان: چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں ، رفا ہ یونیورسٹی میں چئیر مین ایپ سیپ پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان کا خطاب

11:31 AM, 24 Sep, 2025

اسلام آباد :  رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد میں ایپ سپ (APSUP) کے زیر اہتمام ایک اہم آگاہی سیشن جس کا عنوان "2030 کا پاکستان: چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں" ہے کا انعقاد کیا گیا، جس میں معروف ماہر تعلیم اور ایپ سپ کے پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان نے خصوصی خطاب کیا۔

خطاب کے دوران پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رول ماڈل بننے کے لیے کسی کو اپنا رول ماڈل بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے کردار اور قیادت کے ماڈل کو بہترین اور دیرپا قرار دیتے ہوئے کہا کہ "نبی پاک ﷺ اللہ پر یقین رکھتے تھے، صادق اور امین تھے۔ وہ تبدیلی لے کر آئے جو آج بھی قائم ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے موجودہ گورننس ماڈل پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ اس موقع پر انہوں نے میاں عامر محمود کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان افراد میں شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کو 400 سے زائد کالجز اور تین بہترین یونیورسٹیز کا تحفہ دیا۔ انہوں نے کہا: "میں پورے پاکستان کی طرف سے میاں عامر محمود کا شکر گزار ہوں۔ وہ قوم کے محسن ہیں۔"

پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان  نے بتایا کہ ایپ سپ نے نوجوانوں کے روزگار کے مسائل پر تحقیق کا آغاز کیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ نوجوانوں میں "مقصد کی وضاحت" (Clarity of Purpose) کی کمی ہے۔ وہ جلد امیر بننے کے خواب دیکھتے ہیں اور دباؤ برداشت نہیں کر پاتے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ تعلیمی نظام میں فیکلٹی پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ خود طلبہ کے لیے رول ماڈل بن سکیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایپ سپ ایسی فیکلٹی تیار کرنے کے لیے کام کرے گا جو نوجوانوں کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لا سکے۔

پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمان نے کہا کہ "مجھے آج پاکستان کی تقدیر بدلتی ہوئی نظر آ رہی ہے"۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں نئے چھوٹے صوبے وجود میں آئیں گے، نئی قیادت ابھرے گی، اور اسکول و کالجز کی بنیاد پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ جیسے ماضی میں علی گڑھ یونیورسٹی سے ایک تحریک اٹھی تھی، ویسے ہی آج کی یونیورسٹیز میں ہونے والی ڈیبیٹس اور سیشنز پاکستان کے نئے مستقبل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف انفرادی تبدیلی کافی نہیں بلکہ پورے سسٹم، خاص طور پر گورننس ماڈل کو تبدیل کرنا ہو گا۔ "ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ آج وسائل عام آدمی کی پہنچ میں کیوں نہیں؟"، انہوں نے کہا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر پرائیویٹ سیکٹر تعلیم اور ہیومن ریسورس کی ترقی میں اپنا کردار ادا نہ کرتا تو پاکستان کا تعلیمی نقشہ مختلف ہوتا۔ انہوں نے کہا"پبلک سیکٹر اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا، یہ خلا پرائیویٹ سیکٹر نے پُر کیا ہے"۔

مزیدخبریں