پاکستان میں اس وقت ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں ، چئیر مین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

11:50 AM, 24 Sep, 2025

اسلام آباد :  پنجاب گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود نے ایک اہم تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا موجودہ سیاسی اور انتظامی نظام اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ اس میں مؤثر کام کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بڑے بڑے صوبوں کے ہوتے ہوئے نظام بہتر نہیں ہو سکتا، اس لیے نئے صوبے بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات بہتر انداز میں فراہم کی جا سکیں اور حکومتی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

رفاہ یونیورسٹی اسلام آباد میں ایپ سپ کے زیر اہتمام منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جا پا رہے، جو عالمی سطح پر ایک بڑی تعداد ہے۔ انہوں نے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 70 فیصد بچے ساتویں کلاس میں پہنچنے کے باوجود دوسری جماعت کی کتاب نہیں پڑھ سکتے، جو کہ تعلیمی بحران کی گہری عکاسی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف ایک فیصد آبادی یونیورسٹی تک پہنچتی ہے، جبکہ 44 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ میاں عامر نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والے 20 سالوں میں نوجوانوں کی اکثریت کام کرنے کے قابل نہیں رہے گی، جس سے ملک کی ترقی رک جائے گی۔

چیئرمین پنجاب گروپ نے پاکستان کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے عام آدمی ہی ٹیکس دیتا تھا اور جنگیں لڑتا تھا، مگر حکمرانی چند خاندانوں کے ہاتھ میں تھی۔ وقت کے ساتھ عوام کی طاقت بڑھنے لگی اور حکمرانوں کی کم ہونے لگی، یہی وہ بنیادی اصول ہے جس پر حقیقی جمہوریت قائم ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاع میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن پبلک ویلفیئر کے شعبے میں ناکام ہے۔ گورننس کی خرابی ملکی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جس کی وجہ سے ادارے کمزور اور ترقیاتی منصوبے سیاسی ترجیحات کی بنیاد پر چل رہے ہیں، حالانکہ ضروری ہے کہ ترقی کا عمل صحیح جگہ ہو۔

میاں عامر نے لاہور کے ناظم کی حیثیت سے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کئی بار اسکول ایسی جگہ بنائے گئے جہاں آبادی ہی نہیں تھی، جبکہ حکومت ہر بچے پر ماہانہ 4,400 روپے خرچ کر رہی ہے جو کہ کسی اچھے پرائیویٹ سکول کی فیس سے بھی کم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری اسکولوں کی عمارتیں اور سہولیات عمدہ ہیں، مگر تعلیم کا معیار انتہائی خراب ہے اور سرکاری اسکول ان بچوں کے لیے ہیں جو پرائیویٹ سکول نہیں جا سکتے۔

انہوں نے انصاف کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے بتایا کہ قتل کے مقدمات کا فیصلہ 16 سے 18 سال لگ جاتا ہے، جس سے متاثرہ خاندان برباد ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف کسی ایک شخص یا پارٹی کی غلطی نہیں، بلکہ پورا نظام بوسیدہ ہو چکا ہے۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ پنجاب کی آبادی اب 12 کروڑ 75 لاکھ ہو چکی ہے جو اسے دنیا کے بڑے ممالک کی صف میں لا کھڑا کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کا وسیع رقبہ اتنا بڑا ہے کہ وہاں حکومتی سہولیات پہنچانا ممکن نہیں، جبکہ فیصل آباد جیسے بڑے شہر میں نہ تو اچھے اسکول ہیں اور نہ ہی ہسپتال۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں کراچی کے علاوہ کوئی سہولت نہیں ملتی اور لاہور میں ہر سال ہجرت بڑھتی جا رہی ہے، جبکہ پاکستان میں صرف چار صوبے ہیں، جبکہ دیگر ممالک میں اسی آبادی کے لیے 30 سے زائد صوبے ہیں۔

چیئرمین پنجاب گروپ نے زور دیا کہ ہر ڈویژن کو نیا صوبہ بنایا جائے تاکہ ہر صوبے کا اپنا وزیراعلیٰ ہو اور بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں، اس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبے بننے سے وفاقی حکومت پر بوجھ کم ہوگا اور مقامی سطح پر گورننس بہتر ہوگی۔

انہوں نے نوجوانوں کو ملک کی اصل طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بااختیار بنانا ہوگا کیونکہ صرف ایک فیصد نوجوان یونیورسٹی تک پہنچتے ہیں اور یہ وہ طبقہ ہے جو قوم کی قیادت کرے گا۔ میاں عامر نے کہا کہ اگر نوجوانوں نے ملک کی قدر کی تو پاکستان ترقی کرے گا ورنہ حالات بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم جیسے ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور تبدیلی کے لیے سب سے بڑا ہتھیار سوشل میڈیا ہے، جس کا مثبت استعمال کر کے نئی نسل تبدیلی کی تحریک چلا سکتی ہے۔

میاں عامر محمود نے آخر میں کہا کہ کوئی پارٹی یا شخص تنہا یہ کام نہیں کر سکتا، سب کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو اس کے اصل مقام پر پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ترقی کرنے والی قومیں وہی ہیں جو آنے والے 20 سالوں کے چیلنجز کو آج سمجھ کر ان کا حل نکالتی ہیں۔

مزیدخبریں