واشنگٹن/نئی دہلی : امریکہ کی ایچ ون بی ویزا پالیسی میں حالیہ تبدیلیوں کے باعث بھارت سمیت کئی ممالک کی آئی ٹی انڈسٹری کو شدید جھٹکا لگنے کا خدشہ ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے نئے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ایچ ون بی ورک ویزا کی سالانہ فیس ایک لاکھ ڈالر مقرر کر دی گئی ہے، جو نئے درخواست گزاروں پر لاگو ہوگی۔
امریکی حکام کے مطابق یہ پالیسی ان افراد پر لاگو نہیں ہوگی جو پہلے سے ایچ ون بی ویزا رکھتے ہیں یا ری نیو کروانے کے خواہشمند ہیں۔ تاہم نئی درخواستیں دینے والے پروفیشنلز کو بھاری مالی بوجھ برداشت کرنا ہوگا، جس سے عالمی سطح پر آئی ٹی کے شعبے میں کام کرنے والے لاکھوں ماہرین متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے سب سے زیادہ نقصان بھارت کی آئی ٹی انڈسٹری کو ہوگا، جو امریکا کی ٹیک انڈسٹری میں سب سے زیادہ افرادی قوت فراہم کرتی ہے۔ امریکی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024 میں جاری کیے گئے ایچ ون بی ویزوں میں بھارت کا حصہ 71 فیصد رہا، جبکہ چین 11.7 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر، اور پاکستان ایک فیصد سے بھی کم حصہ کے ساتھ آٹھویں نمبر پر ہے۔
ڈیلس (امریکہ) میں مقیم امیگریشن اٹارنی نعیم سکھیا کے مطابق، پاکستان کے لیے بھی یہ پالیسی تشویش کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر آئی ٹی، انجینئرنگ اور تعلیم کے شعبوں میں اسپانسرشپ مزید مہنگی ہو جائے گی۔ تاہم انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ نرسنگ اور ہیلتھ کیئر کے شعبوں کو "نیشنل انٹرسٹ" کے تحت استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔
نئی ویزا فیس پالیسی کو ماہرین امریکا میں امیگریشن کی سختیوں اور مقامی افرادی قوت کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ قرار دے رہے ہیں، تاہم یہ عالمی سطح پر ٹیلنٹ کے بہاؤ پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔