بی آئی ایس پی کو سیلاب متاثرین کے لیے استعمال نہ کرنا ’غیر ذمہ دارانہ‘ ہوگا، آصفہ بھٹو

آصفہ بھٹو، بلاول اور شیری رحمٰن کا بی آئی ایس پی کے ذریعے ریلیف کی تقسیم پر زور، پنجاب حکومت کی مخالفت برقرار

04:31 PM, 24 Sep, 2025

اسلام آباد/لاہور:پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سیلاب متاثرین میں مالی امداد کی تقسیم کا سب سے مؤثر اور شفاف ذریعہ ہے، اور اس قومی ادارے کا استعمال نہ کرنا "غیر ذمہ دارانہ فیصلہ" ہوگا۔

آصفہ بھٹو کا یہ بیان پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی پریس کانفرنس کے ایک روز بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پنجاب حکومت بی آئی ایس پی کے بجائے اپنے ذرائع سے "ذاتی ناموں پر" ریلیف کارڈز جاری کرے گی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان دیتے ہوئے آصفہ بھٹو نے کہا کہ پنجاب میں غیر معمولی سیلاب سے چالیس لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، اور ایسی صورتحال میں امداد کی فوری اور منصفانہ تقسیم کے لیے بی آئی ایس پی جیسا ادارہ سب سے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے پاس متاثرین کا ڈیٹا، عملہ اور انفراسٹرکچر موجود ہے، جسے نظر انداز کرنا ریاستی وسائل کا ضیاع اور غیر سنجیدہ رویہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی گزشتہ کئی ہفتوں سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیلاب متاثرہ خاندانوں کو بی آئی ایس پی کے ذریعے وظیفے فراہم کریں۔ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور نائب صدر شیری رحمٰن بھی متعدد مواقع پر اس مؤقف کا اظہار کر چکے ہیں۔ شیری رحمٰن نے سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں بھی اس مطالبے کو دہرایا۔


دوسری جانب، پنجاب حکومت نے اپنے علیحدہ ریلیف ماڈل پر اصرار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سیاست نہیں، خدمت پر یقین رکھتی ہے۔ عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ "کیا ہم ان سے مشورہ لیں جنہوں نے سندھ کو آثار قدیمہ میں بدل دیا ہے؟"

مزیدخبریں