لاہور:گلوکارہ معصومہ انور نے حال ہی میں نیو ٹی وی کے پروگرام "زبردست" میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر اور زندگی کے حوالے سے دلچسپ انکشافات کیے۔ پروگرام کے دوران معصومہ انور نے بتایا کہ ان کی مردانہ لہجے کی آواز کی وجہ سے بعض لوگ انہیں "چاہت فتح علی خان" بھی کہتے ہیں۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معصومہ انور نے کہا کہ کیریئر کے ابتدائی دنوں میں لیجنڈ گلوکارہ ریشماں نے ان کی آواز کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی آواز ریشماں جی سے ملتی ہے۔ معصومہ انور نے بتایا کہ ان کی والدہ نے انہیں کبھی ریشماں کی آواز نہیں سنوائی تھی، لیکن جب انہوں نے ایک گانا گایا تو والدہ نے انہیں بتایا کہ ان کی آواز ریشماں جی جیسی ہے۔
معصومہ نے مزید کہا کہ ریشماں جی نے زندگی کے آخری ایام میں ایک ٹی وی شو کے دوران ان کی آواز کی تعریف کی تھی، اور انہوں نے شکریہ ادا کرنے کے لیے اسی شو میں فون کیا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں معصومہ انور نے بتایا کہ جب وہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں، تو بھارت سے انہیں گلوکاری کی پیشکش ہوئی تھی۔ بھارتیوں نے ان کی آواز کی بنا پر سمجھا کہ وہ 50 سال کی ہوں گی، حالانکہ اس وقت ان کی عمر صرف 22 سال تھی۔
یہ انکشافات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ معصومہ انور کی آواز نے نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی ایک خاص مقام بنایا ہے اور ان کے گانے سننے والے انہیں ایک منفرد انداز سے پہچانتے ہیں۔