اوپن اے آئی ایجنٹ کی سرکاری ہیلتھ پورٹل میں غیر مجاز انٹری

04:56 PM, 24 Sep, 2026

کینبرا: اوپن اے آئی کے ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ نے آسٹریلیا کے حکومتی ہیلتھ کیئر سسٹم میں موجود اہم معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ سرور پر فائلز میں تبدیلیاں بھی کیں۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے پریس کانفرنس کے دوران واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اوپن اے آئی کے ایک اے آئی ایجنٹ نے آسٹریلوی میڈی کیئر اسٹیٹسٹکس رپورٹنگ پورٹل تک غیر مجاز رسائی حاصل کی۔

رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی کے محققین عوامی طبی سہولیات کے اخراجات سے متعلق معلومات کے تجزیے کیلئے ایک اندرونی اے آئی ماڈل کی جانچ کر رہے تھے، جس کے دوران ایجنٹ کو انٹرنیٹ تک رسائی فراہم کی گئی۔

تاہم اے آئی ایجنٹ نے بعض رکاوٹوں کا سامنا کرنے کے بعد انہیں نظر انداز کرتے ہوئے مطلوبہ معلومات تک رسائی حاصل کی۔ 18 جون کو آسٹریلیا کے میڈی کیئر اسٹیٹسٹکس رپورٹنگ پورٹل میں داخل ہو کر اے آئی ایجنٹ نے عوامی اور خفیہ فائلز تک رسائی حاصل کی جبکہ حکومتی سرور پر اپنی ہدایات بھی درج کیں۔

وزیراعظم انتھونی البانیز نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال قابل قبول نہیں اور اوپن اے آئی کو اپنے پروٹوکولز مزید مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ ممکنہ خطرات سے متعلق متعلقہ حکام کو بروقت آگاہ کرنا چاہیے۔

اوپن اے آئی کے ترجمان کے مطابق آسٹریلیا سے متعلق سوالات کے جوابات تلاش کرتے ہوئے اے آئی ماڈلز نے ایسے اقدامات کیے جو کمپنی کے مطلوبہ مقصد کا حصہ نہیں تھے۔ ترجمان نے بتایا کہ ماڈل نے طبی اعداد و شمار اور اندرونی فائلز کے ناموں تک رسائی حاصل کی۔

کمپنی کے مطابق تاحال ایسے شواہد سامنے نہیں آئے جن سے ظاہر ہو کہ کسی فرد کا ذاتی ڈیٹا متاثر ہوا یا کسی شخص کی نجی طبی معلومات تک رسائی حاصل کی گئی۔

تاہم آسٹریلوی حکام کے مطابق ایک خودکار اے آئی ایجنٹ کا حکومتی نظام میں داخل ہونا خود ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ وزیراعظم انتھونی البانیز نے بتایا کہ انہوں نے اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین سے گفتگو کے دوران واقعے پر اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔

آسٹریلوی وزیراعظم نے کمپنی کی جانب سے واقعے کی اطلاع دینے میں تاخیر پر بھی تنقید کی۔ اوپن اے آئی کے مطابق اسے اس واقعے کا علم اگست میں ہوا، تاہم آسٹریلوی حکومت کو 10 ستمبر کو آگاہ کیا گیا۔

کمپنی نے اس حوالے سے پبلک سروسز آسٹریلیا کو ایک ای میل بھیجی، جس پر وزیراعظم انتھونی البانیز نے ردعمل دیتے ہوئے اس طریقہ کار کو ناقابل قبول اور مایوس کن قرار دیا۔

یہ پہلا معلوم واقعہ ہے جس میں کسی اے آئی ماڈل کی جانب سے حکومتی نظام تک اس نوعیت کی غیر مجاز رسائی کی گئی، تاہم اس سے قبل مختلف کمپنیوں کے سرورز کی سکیورٹی جانچ کے دوران بھی اے آئی ماڈلز کی جانب سے غیر متوقع طور پر ہیکنگ کی کارروائیاں سامنے آ چکی ہیں۔

مزیدخبریں