صوبوں کی منظوری کے بغیر وفاق کوئی نہر نہیں بنا سکتا:بلاول بھٹو

09:46 PM, 25 Apr, 2025

سکھر: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت کی نئی پالیسی کے مطابق دریائے سندھ سے کوئی نئی نہر اس وقت تک نہیں بنے گی جب تک تمام صوبے اس پر متفق نہ ہوں۔

سکھر میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ اب یہ طے پا چکا ہے کہ بغیر صوبوں کی رضامندی کے کوئی نئی کینال تعمیر نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اس پیش رفت کو "پُرامن جمہوری جدوجہد کی کامیابی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے عوام کے اعتراضات کو سن کر ایک متفقہ فیصلہ کیا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ماضی میں مشترکہ مفادات کونسل میں اکثریت کی بنیاد پر فیصلے کیے جا سکتے تھے، لیکن اب مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ نئی نہریں تبھی تعمیر ہوں گی جب تمام صوبے اس پر رضامند ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ تمام صوبوں کے پانی کے حقوق مساوی ہیں، اور اس پالیسی کی بنیاد 1991 کے پانی کے معاہدے اور 2018 کی واٹر پالیسی پر ہے۔

بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس فوری طور پر بلایا جائے تاکہ اتفاق کردہ پالیسی کی توثیق کی جا سکے۔

یہ اعلان پانی کی منصفانہ تقسیم اور صوبائی خودمختاری کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً ان صوبوں کے لیے جو دریائے سندھ پر انحصار کرتے ہیں۔

مزیدخبریں