حکومت عام انتخابات اور استعفے کا اعلان کرے پھر بات ہو سکتی ہے، مولانا فضل الرحمان

08:00 PM, 25 Dec, 2020

ڈیرہ اسماعیل خان: جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مولانا شیرانی کی بات کو پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سپورٹ کیا جا رہا ہے۔ ہم نااہل حکومت کے خلاف لڑ ر ہے ہیں اور سب کا اس چیز پر اتفاق ہے کہ حکومت کو جانا چاہیئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے پولیس کہتی ہے کہ آپ کی سیکیورٹی کو ختم کرنے کے لئے دباو ہے لیکن حکومت جو کر لے ہم اپنی تحریک کو جاری رکھیں گے۔ جنوری میں کراچی میں اسرائیل مردہ باد ریلی ہو گی جبکہ حکومت اگر اپنے استعفے اور الیکشن کا اعلان کرے تو پھر ان کے ساتھ بات ہو سکتی ہے۔ 

آج جمعیت علما اسلام (ف) میں اکھار پچھاڑ شروع ہو گئی۔ مولانا محمد خان شیرانی اور حافظ حسین احمد کو پارٹی سے باہر کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعیت علما اسلام کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا جس میں مولانا شیرانی، حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب اور مولانا شجاع الملک کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ مجلس عاملہ نے نظم و ضبط کمیٹی کی سفارشات پر متفقہ فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس کے دوران مجلس عاملہ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی رہنما وضاحت کرتا ہے اور معافی مانگتا ہے تو پھر کمیٹی فیصلہ کرنے میں بااختیار ہو گی۔ 

خیال رہے کہ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا تھا کہ پی ڈی ایم میں شامل ہر جماعت کے اپنے ، اپنے مفادات ہیں اور یہ غیر فطری اتحاد ہے جو بہت ہی جلد ٹوٹ جائے گا کیونکہ اس اتحاد میں کوئی نظریہ نظر نہیں آ رہا۔ صرف اور صرف کرسی کی خاطر ہر کوئی بھاگ دوڑ میں مصروف ہے۔

مزیدخبریں