کراچی میں قائم کال سینٹرز جرائم کا گڑھ بن چکے ہیں، وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار

01:42 PM, 25 Dec, 2025

کراچی: وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں قائم کال سینٹرز جرائم کا گڑھ بن چکے ہیں، اور ان کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر فراڈ کیا جا رہا تھا۔ وزیر داخلہ سندھ نے ڈپٹی ڈائریکٹر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) طارق نواز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 18 دسمبر کو این سی سی آئی اے کی انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کی گئی، جس میں کراچی کے ڈی ایچ اے فیز 6 میں ایک غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مارا گیا۔

کارروائی کے دوران 15 غیر ملکی اور 19 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ ملزمان کال سینٹر کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم افراد کو سرمایہ کاری کے نام پر منافع کا جھانسہ دے کر لوٹ رہے تھے۔

ضیاء الحسن لنجار نے مزید کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق تقریباً 60 ملین ڈالر کی ٹرانزیکشنز کے ذریعے فراڈ کیا جا رہا تھا۔ لوٹی گئی رقم بٹ کوائن اور امریکی ڈالرز کی صورت میں منتقل کی جاتی تھی۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے 37 کمپیوٹرز، 40 موبائل فونز اور 10 ہزار سے زائد سمز برآمد کی گئی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ "ہماری کوشش ہوتی ہے کہ غیر ملکیوں کو یہاں پروٹوکول میں رکھیں، کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا ہوتا کہ وہ کوئی جرم کر رہا ہے، اور آج کل این سی سی آئی اے کا کردار بہت اہم ہے۔" انہوں نے اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف بھی کارروائی کی بات کی۔

وزیر داخلہ سندھ نے مزید کہا کہ "ہم نہیں چاہتے کہ دوست ممالک سے تعلقات خراب ہوں، لیکن غیر قانونی کال سینٹرز میں دو تین ممالک کی شہریت رکھنے والے افراد کام کر رہے تھے۔" انہوں نے کہا کہ "صرف ان لوگوں کو پکڑنے سے چیزیں ٹھیک نہیں ہوتیں، ان کیسز کے خلاف زیادہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔"

ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے طارق نواز نے بھی اس کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گرفتاریاں ڈی ایچ اے فیز 1 اور 6 سے عمل میں آئیں، اور تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ "کرائم کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، کرائم میں غیر ملکی یا ملکی کوئی بھی ملوث پایا جا سکتا ہے۔" طارق نواز نے مزید کہا کہ این سی سی آئی اے ٹیلی گرام ایپ کے ذریعے فراڈ کی شکایات موصول کر رہا ہے، اور اس ایپ کے ذریعے لوگوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی جا رہی تھی۔

طارق نواز نے اس بات پر زور دیا کہ این سی سی آئی اے کراچی میں اپنے اندرونی احتساب کو بڑھا رہا ہے، تاکہ اس طرح کے غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزیدخبریں