2025 پاکستان کے لیے اسٹریٹجک واپسی اور عسکری اعتماد کا سال ثابت ،امریکی میگزین نےعالمی توجہ کا مرکز قرار دے دیا

02:28 PM, 25 Dec, 2025

واشنگٹن : امریکی میگزین دی ڈپلومیٹ نے 2025 کو پاکستان کے لیے ایک اہم سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کئی برسوں بعد دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ میگزین کے مطابق، یہ سال پاکستان کے لیے سٹریٹجک واپسی اور عسکری اعتماد کا سال ثابت ہوا، جب عسکری قیادت نے ریاستی سطح پر انتہا پسندی کے خلاف واضح اور مضبوط پیغام دیا۔

دی ڈپلومیٹ نے رپورٹ میں کہا کہ آرمی چیف نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا کہ "جہاد کا اعلان صرف ریاست کے پاس ہے"، جسے انتہا پسندی کے خلاف ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا۔ عسکری قیادت نے ریاستی مفادات کا بھرپور تحفظ کیا اور اس کے واضح وژن نے پاکستان کی ریاستی رٹ کو مضبوط کیا۔ اس کے علاوہ، بھارت کے ساتھ مئی 2025 میں ہونے والی فوجی جھڑپوں نے عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔

پاکستان کی فوج کی کارکردگی نے عسکری توازن کو واضح کر دیا، اور اس نے داخلی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی سٹریٹجک ساکھ اور ڈیٹرنس کو تقویت بخشی۔ دی ڈپلومیٹ کے مطابق، بھارت کے خلاف پاکستانی فوج کی کامیاب کارکردگی نے نہ صرف پاکستان کی عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا، بلکہ عالمی دفاعی ماہرین کی توجہ بھی حاصل کی۔

پاکستان کی فوج کی کامیابیوں کے بعد پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی۔ دی ڈپلومیٹ کے مطابق، بھارت کے خلاف کامیاب کارکردگی کے بعد ہندوستان کے واشنگٹن سے تعلقات پر دباؤ آیا، اور پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے دفاعی معاہدوں کے ذریعے سٹریٹجک پیش رفت کی۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون نے پاکستان کا علاقائی کردار مضبوط کیا، اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے کی تکمیل ایک بڑی کامیابی قرار دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے دفاعی سازوسامان کی عالمی سطح پر مانگ میں اضافہ ہوا، اور چین نے جنگ کے دوران استعمال ہونے والے دفاعی ہتھیاروں کی کارکردگی پر خوشی کا اظہار کیا۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے کے لیے عالمی سطح پر سازگار ماحول بھی پیدا ہوا، اور پاکستان کو غزہ سے متعلق عالمی کوششوں میں اہم فریق قرار دیا گیا۔

افغانستان کے معاملے پر پاکستان نے اپنا واضح مؤقف اپنایا، اور ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کی پالیسی میں فیصلہ کن سختی آئی۔ پاکستان نے طالبان حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کی حکمت عملی کو مؤثر ثابت کیا۔

پاکستان نے قطر، ترکی اور سعودی عرب کو ثالثی کردار میں شامل کر کے سرحد پار خطرات کو عالمی سطح پر مزید اجاگر کیا، اور دہشت گردی کے خلاف اندرونِ ملک نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ مختلف ممالک کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھایا گیا، اور اصلاحاتی اقدامات پر پیش رفت ہوئی، جس کے نتیجے میں معاشی مشکلات کے باوجود پی آئی اے کی نجکاری جیسے بڑے اقدامات نے ممکنہ طور پر پاکستان کی معیشت میں ایک نیا موڑ پیدا کیا۔

مزیدخبریں