تہران/جنیوا : جنیوا میں ہونے والے اہم ترین مذاکرات سے عین قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکہ ایک نئے جوہری معاہدے کے اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی کے بجائے کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔
عباس عراقچی نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے پاس دہائیوں پر محیط تناؤ کو ختم کرنے کا ایک "سنہری اور تاریخی موقع" ہے۔ ان کے خطاب کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں۔ نیا معاہدہ اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے جو امریکہ کے سیکیورٹی تحفظات اور ایران کے معاشی مفادات (پابندیوں کا خاتمہ) کے درمیان ایک پل کا کام کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ماہرین کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں اہم ترین نکات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، اور اب صرف سیاسی فیصلے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے مواقع بار بار نہیں آتے، لہٰذا دونوں فریقین کو لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنیوا میں ہونے والے آئندہ دور میں درج ذیل امور پر حتمی بحث متوقع ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام کی حدود کا از سرِ نو تعین۔
ایرانی معیشت پر عائد سنگین عالمی پابندیوں کو مرحلہ وار ہٹانا۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو ایرانی تنصیبات تک رسائی کی بحالی۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عباس عراقچی کا یہ دعویٰ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے، تو یہ 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کے بعد کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔ اس معاہدے سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹ جائیں گے بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
جوہری ڈیڈ لاک کا خاتمہ قریب: "امریکہ کے ساتھ غیر معمولی معاہدہ اب خواب نہیں"، ایرانی وزیر خارجہ کا دبنگ دعویٰ
03:56 PM, 25 Feb, 2026