قبل از گرفتاری ضمانت مسترد ہونے کے بعد فوری گرفتاری ضروری ہے، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

01:18 PM, 25 Jul, 2025

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد میں تاخیر سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کسی ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت مسترد ہو جائے تو اس کی فوری گرفتاری ضروری ہے، اور محض سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنا گرفتاری سے بچنے کے لیے کافی نہیں۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جاری کیے گئے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عبوری تحفظ ازخود حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے عدالت سے باقاعدہ اجازت لینا لازم ہے۔ فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عدالتی احکامات پر فوری اور مؤثر عملدرآمد انصاف کی بنیاد ہے۔

فیصلے کے مطابق، لاہور ہائی کورٹ نے ملزم زاہد خان اور دیگر کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی تھی، لیکن پولیس نے چھ ماہ تک گرفتاری کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔ عدالت نے اس رویے کو انصاف کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی طرف سے ایسی تاخیر انتظامی سہولت کے نام پر قابل قبول نہیں ہو سکتی۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ پولیس کی غفلت انصاف کے نظام اور عوام کے اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔ عدالت نے بتایا کہ آئی جی پنجاب نے پولیس کی کوتاہی کا اعتراف کیا اور اس مسئلے کے حل کے لیے عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق سرکلر جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر کسی کی اپیل سپریم کورٹ میں زیر التوا ہو، تب بھی گرفتاری سے صرف اسی صورت میں بچا جا سکتا ہے جب عدالت باقاعدہ حفاظتی حکم جاری کرے۔

درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے اپیل واپس لینے پر عدالت نے مقدمہ نمٹا دیا۔

مزیدخبریں