پاکستان میں بھارتی ریاستی دہشتگردی کے شواہد پر عالمی خاموشی، خطے کے امن کے لیے خطرہ

12:42 PM, 25 May, 2025

نیوویب ڈیسک

اسلام آباد : پاکستان ایک بار پھر بھارتی ریاستی دہشتگردی کے ناقابلِ تردید شواہد دنیا کے سامنے لا رہا ہے، مگر عالمی برادری کی مسلسل خاموشی خطے اور عالمی امن کے لیے لمحہ فکریہ بنتی جا رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان نے کئی بار عالمی سطح پر بھارت کی تخریبی سرگرمیوں، خاص طور پر بلوچستان میں مداخلت، کے ٹھوس ثبوت پیش کیے ہیں۔ ان شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں منظم انداز میں پاکستان کے اندر دہشتگردی کو ہوا دے رہی ہیں۔

2009ء میں شرم الشیخ میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان نے پہلی بار بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا معاملہ باضابطہ طور پر اٹھایا۔ 2010ء میں وکی لیکس کے انکشافات نے بھی تصدیق کی کہ بین الاقوامی ادارے ان بھارتی سرگرمیوں سے بخوبی واقف تھے۔

2015ء، 2019ء اور 2023ء میں پاکستان نے اقوامِ متحدہ کو بھارتی ریاستی دہشتگردی پر مبنی تفصیلی ڈوزیئرز جمع کرائے۔ ان میں نہ صرف انٹیلی جنس آپریشنز کے شواہد شامل تھے، بلکہ ایسے افراد کے اعترافات بھی جنہوں نے بھارت سے تربیت اور ہدایات لینے کا اقرار کیا۔ 2016ء میں بھارتی نیوی کے افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری نے بھارت کے عزائم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا، جس نے خود پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کا اعتراف کیا۔

حال ہی میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک بریفنگ میں بھارتی فوجی افسران کے پاکستان میں براہ راست دہشتگردی میں ملوث ہونے کے شواہد پیش کیے۔ ان شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی انفرادی کارروائیاں نہیں، بلکہ بھارتی ریاستی پالیسی کا حصہ ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کی مسلسل خاموشی اور بھارتی حکومت کا انکار خطے کو ٹکراؤ کی جانب لے جا رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی ادارے بھارت کی ان ریاستی دہشتگردانہ پالیسیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور عملی اقدامات کریں، تاکہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزیدخبریں