اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم؛ ہزاروں سکھوں کی بھارت کی پالیسیوں کے خلاف سیاسی مزاحمت

03:00 PM, 25 Nov, 2025

اوٹاوا: کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں خالصتان کے حق میں بڑا ریفرنڈم منعقد ہوا جس میں ہزاروں سکھوں نے شریک ہو کر بھارتی حکومتی پالیسیوں کے خلاف اپنا سیاسی مؤقف مضبوط انداز میں پیش کیا۔

علیحدگی پسند تنظیم سکھ فار جسٹس (SFJ) کے مطابق ریفرنڈم میں 53 ہزار سے زائد سکھوں نے ووٹ ڈالے۔ سخت سرد موسم کے باوجود سکھ کمیونٹی کے افراد طویل قطاروں میں کھڑے ہو کر حقِ رائے دہی استعمال کرتے رہے۔

سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ اوٹاوا میں ہونے والا ریفرنڈم بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ’’جمہوری ردعمل‘‘ ہے۔ ان کے مطابق یہ عمل ہندوتوا سیاست کے مقابلے میں سکھوں کی پرامن جدوجہد کی علامت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 1984 کے واقعات کے بعد سے سکھ برادری کو معاشی و سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ کینیڈا کی بعض ایجنسیز نے بھی بھارت میں کچھ ریاستی عناصر کو سکھ برادری کے خلاف کارروائیوں میں ملوث قرار دیا ہے۔ ریفرنڈم میں شریک افراد کی بڑی تعداد نے بھارت میں مبینہ جبر، معاشی دباؤ اور حقوق سے محرومی کے خدشات کا اظہار کیا۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق خالصتان تحریک عالمی سطح پر مزید توجہ حاصل کر رہی ہے۔ اوٹاوا ریفرنڈم نے بھارت اور کینیڈا کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ کا امکان پیدا کر دیا ہے، جبکہ دونوں ممالک اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔

مزیدخبریں