معروف صحافی، ادیب اور بلند پایہ خطیب آغا شورش کاشمیری کی آج 50ویں برسی

12:59 PM, 25 Oct, 2025

لاہور :  معروف صحافی، ادیب اور بلند پایہ خطیب آغا شورش کاشمیری کی آج 50ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ آغا شورش کاشمیری کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے علمی، ادبی اور دینی خدمات سے نہ صرف اردو ادب کی تاریخ کو متاثر کیا بلکہ پاکستانی سیاست اور تحریک ختم نبوت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

آغا شورش کاشمیری، جن کا اصل نام عبدالکریم تھا، 14 اگست 1917ء کو لاہور میں پیدا ہوئے اور ان کا قلمی نام ’’آغا شورش کاشمیری‘‘ تھا۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ 1973ء کے آئین میں ختم نبوت کے عقیدے کو شامل کرانے میں ان کی سرگرم اور جرات مندانہ کوششوں کا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے قادیانیوں کو خارج از اسلام قرار دینے کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا، جو ان کی خدمات کا ایک روشن باب ہے۔

آغا شورش کاشمیری کی سیاسی، علمی اور ادبی تربیت کا آغاز گھر سے ہوا جہاں ’’زمیندار‘‘ اخبار ان کی ابتدائی معلومات کا ذریعہ تھا۔ مولانا ظفر علی خان کی قربت اور تحریک شہید گنج کے دوران ان کی سیاسی و دینی فکر میں استحکام آیا اور وہ برصغیر کے منفرد خطیب کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ شورش کاشمیری نے اپنی زندگی کی قید و بند کی صعوبتیں بھی دلیری سے برداشت کیں اور اس دوران ان کا عزم مزید مضبوط ہوا۔

ان کی تصانیف میں ’’فیضان اقبال‘‘، ’’چہرے‘‘، ’’فن خطابت‘‘، ’’موت سے واپسی‘‘ اور ’’خطبات احرار‘‘ جیسے اہم کام شامل ہیں جو آج بھی اردو ادب کا حصہ ہیں۔ ان کی تحریریں اور تقریریں نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں ان کے پیروکاروں کے درمیان گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔

آغا شورش کاشمیری 25 اکتوبر 1975ء کو لاہور میں انتقال کر گئے اور میانی صاحب قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے اس دن کی اہمیت اور ان کے افکار کی روشنی میں ہمیں اپنے قومی و دینی مسائل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

مزیدخبریں