پنجاب حکومت کا شہریوں کو آلودہ پانی سے بچانے کے لیے بڑا صاف پانی منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ

12:43 PM, 25 Oct, 2025

لاہور: پنجاب حکومت نے شہریوں کو مضرِ صحت اور آلودہ پانی کے اثرات سے بچانے کے لیے ایک بڑا صاف پانی منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منصوبے کا آغاز پہلے مرحلے میں پنجاب کے 16 اضلاع سے کیا جائے گا، جس کا مقصد لوگوں کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنا ہے۔

منصوبے کی تفصیلات پر غور کرنے کے لیے سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے کے عملدرآمد اور اس کی نگرانی کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق، اس منصوبے کے تحت آرسینک زدہ اور آلودہ زمینی پانی والے علاقوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے جائیں گے، تاکہ شہریوں کو صاف پانی فراہم کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ، دھارابی، میروال اور پھالینہ ڈیمز پر سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس بھی لگائے جائیں گے، جب کہ خوشاب، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان میں چار بوٹلنگ پلانٹس قائم کیے جائیں گے تاکہ پانی کی فراہمی میں کوئی خلل نہ آئے۔

پہلے مرحلے کا ہدف 30 جون 2026 تک مکمل کرنا ہے، جس سے تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ شہری مستفید ہوں گے۔ اس منصوبے کے تحت شہریوں کو 19 لیٹر کی بوتلوں میں صاف پانی فراہم کیا جائے گا۔ صوبائی کابینہ نے منصوبے کی آپریشنز اور مینجمنٹ کے حوالے سے بھی منظوری دے دی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ واٹر فلٹریشن پلانٹس سرکاری عمارتوں، سکولوں، دینی مدارس، مساجد اور تھانوں میں نصب کیے جائیں گے تاکہ چوری اور نقصان کے واقعات میں کمی لائی جا سکے۔ یہ منصوبہ صوبے میں صاف پانی کی فراہمی، صحت کے تحفظ اور ماحولیاتی بہتری کے حوالے سے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

مزیدخبریں