پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں8 یوم کی توسیع

01:27 PM, 25 Oct, 2025

لاہور: محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 8 دن کی توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام امن و امان کے قیام اور عوامی سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ کے ترجمان کے مطابق، اس مدت کے دوران پنجاب میں تمام قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیاں، دھرنے اور اجتماعات پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ دفعہ 144 کے تحت عوامی مقامات پر چار یا زائد افراد کے جمع ہونے پر بھی پابندی ہو گی۔

اس کے علاوہ، اسلحہ کی نمائش، لاؤڈ سپیکر کا استعمال اور اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاہم، اس پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، جنازہ، اور تدفین پر نہیں ہوگا، اور سرکاری افسران و اہلکار اور عدالتیں اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ لاؤڈ سپیکر صرف اذان اور جمعہ کے خطبہ کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے۔

محکمہ داخلہ نے سکیورٹی کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فیصلے کو دہشت گردی اور دیگر شرپسند سرگرمیوں کے پیش نظر ضروری قرار دیا۔ سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ عوامی احتجاجات دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ بن سکتے ہیں، جس سے ریاست مخالف سرگرمیوں کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کی 39ویں اجلاس میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کی سفارش کی گئی تھی، جس کے بعد حکومت پنجاب نے اس کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ عوامی آگاہی کے لیے دفعہ 144 کے نفاذ کی بڑے پیمانے پر تشہیر بھی کی جائے گی۔یہ پابندیاں 1 نومبر تک نافذ رہیں گی اور حکومت کی جانب سے عوامی تحفظ کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔

مزیدخبریں