لاہور / سکھر / ٹھٹھہ / نواب شاہ : پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں حالیہ سیلاب نے تاریخ کی بدترین تباہی مچا دی، کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود کئی علاقے تاحال زیرِ آب ہیں، جبکہ بحالی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔
پنجاب کے جنوبی اضلاع، خاص طور پر احمد پور شرقیہ اور اوچ شریف میں سیلابی ریلوں نے سیکڑوں گھروں اور ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلوں کو تباہ کر دیا۔ باغات، سڑکیں، اسکول اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اگرچہ بعض علاقوں میں پانی کی سطح کم ہو چکی ہے، مگر کئی مقامات پر تاحال شگاف بند نہیں کیے جا سکے، جس کے باعث راستے بحال نہیں ہو سکے۔ متاثرہ افراد کو نہ صرف گھروں کو واپس جانے میں مشکلات درپیش ہیں، بلکہ اشیائے خور و نوش اور پینے کے پانی تک رسائی بھی محدود ہے۔
متاثرین نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں فوری طور پر خوراک، پینے کا پانی، ٹینٹ، جانوروں کے لیے چارہ اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ کئی خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 407,000 کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔ پانی کی سطح میں اضافے کے بعد ٹھٹھہ کے کچے کے علاقے، خصوصاً یار محمد منچھر سمیت کئی دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں، اور مقامی افراد بندوں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔
اسی طرح نواب شاہ، مٹیاری اور ہالہ کے علاقوں میں بھی سیلابی پانی نے کچے کے درجنوں دیہات متاثر کر دیے ہیں۔ مقامی آبادی کشتیوں کے ذریعے اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہی ہے، جبکہ حکومتی امداد کے منتظر افراد اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ادھر گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کے بہاؤ میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے، تاہم نچلے علاقوں میں خطرہ بدستور موجود ہے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق پنجاب میں دریاؤں کی عمومی صورتِ حال معمول پر آ چکی ہے۔ دریائے ستلج میں پانی کی شدت ٹوٹ چکی ہے، جبکہ ہیڈ سلیمانکی اور گنڈا سنگھ والا پر بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔
صرف ہیڈ اسلام پر اب بھی نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے، مگر یہاں بھی پانی کی سطح میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔پنجاب کے بعض علاقوں میں پانی اترنے کے بعد جلال پور پیر والا سے پانچ افراد کی لاشیں ملی ہیں، جو ممکنہ طور پر سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے۔
متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر امدادی کارروائیاں تیز کرے، بحالی کا عمل فوری شروع کرے، اور متاثرہ علاقوں میں روڈ، پل اور دیگر انفراسٹرکچر کی مرمت پر کام تیز کیا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو متاثرہ علاقوں میں صحت، خوراک اور تعلیم کے مزید سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔