لداخ میں بھارتی بربریت کے خلاف عوامی بغاوت، 4 شہید، 70 زخمی، کرفیو نافذ

02:53 PM, 25 Sep, 2025

سری نگر :  مقبوضہ جموں و کشمیر کے بعد لداخ میں بھی بھارتی ریاستی جبر کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ بھارتی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کے نتیجے میں 4 افراد شہید اور 70 سے زائد زخمی ہو گئے، جب کہ حالات کشیدہ ہونے پر لداخ میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، لداخ کے مرکزی شہر لہہ اور دیگر علاقوں میں شدید عوامی احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین بھارت سے ریاستی درجہ بحال کرنے، خودمختاری اور آئین کے چھٹے شیڈول کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ احتجاج کی قیادت کارگل ڈیموکریٹک الائنس اور لہہ اپیکس باڈی کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بھارتی فورسز نے پُرامن مظاہرین پر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ جوابی کارروائی میں مشتعل عوام نے بی جے پی کے تین دفاتر کو نذر آتش کیا جبکہ 15 فوجی چوکیاں اور ایک پولیس وین کو بھی جلا دیا گیا۔ تصادم کے دوران 5 بھارتی فوجی ہلاک اور 10 سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر عمر عبداللہ نے لداخ کے عوام کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اگر آج لداخ کے عوام خود کو دھوکہ اور مایوسی کا شکار محسوس کر رہے ہیں تو جموں و کشمیر کے عوام کا دکھ اور احساسِ محرومی کہیں زیادہ گہرا ہوگا۔"
مظاہروں کے بعد بھارتی حکومت نے حالات کو قابو میں لانے کے لیے سخت پابندیاں اور کرفیو نافذ کر دیا ہے، جبکہ مظاہرین سے مذاکرات کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ تاہم، مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے آئینی اور جمہوری مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا۔

 یاد رہے کہ 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علیحدہ علاقہ قرار دیا تھا۔ اس اقدام کے خلاف نہ صرف کشمیری بلکہ لداخ کے عوام بھی شدید نالاں ہیں، جو اب کھل کر اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آ چکے ہیں۔

مزیدخبریں